وزیرِ کھیل کا دو ٹوک موقف،پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں
ڈھاکہ، 20 جنوری ( یو این آئی ) بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے کھیل مشیر (وزیرِ کھیل) آصف نظرول نے منگل کے روز ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ آئی سی سی ٹی 20 ورلڈ کپ کے لیے اپنی ٹیم ہندوستان بھیجنے کے معاملے میں وہ اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہیں۔آصف نظرول نے ان قیاس آرائیوں کو بھی خارج کر دیا کہ اگر بنگلہ دیش نے سکیورٹی خدشات کی بنا پر ہندوستان جانے سے انکار کیا، تو آئی سی سی ان کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو شامل کر سکتا ہے۔ انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا”مجھے اس بات کی کوئی اطلاع نہیں ہے کہ ہماری جگہ اسکاٹ لینڈ کو ٹورنامنٹ میں شامل کیا جا رہا ہے۔ اگر آئی سی سی ہندوستانی کرکٹ بورڈ کے دباؤ میں آکر ہم پر غیر منصفانہ شرائط مسلط کرنے کی کوشش کرے گا، تو ہم انہیں ہرگز قبول نہیں کریں گے۔”یہ تعطل اس وقت پیدا ہوا جب بی سی سی آئی نے آئی پی ایل فرنچائز کولکتہ نائٹ رائیڈرز کو ہدایت دی کہ وہ بنگلہ دیشی فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کو ریلیز کر دیں۔ اس کے جواب میں بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے سیاسی تناؤ اور سکیورٹی کا حوالہ دیتے ہوئے آئی سی سی سے مطالبہ کیا کہ ان کے میچ ہندوستان سے سری لنکا منتقل کر دیے جائیں۔ گزشتہ دنوں ڈھاکہ میں آئی سی سی حکام اور بی سی بی کے درمیان مذاکرات ہوئے تھے، جو کسی نتیجے کے بغیر ختم ہو گئے۔ذرائع کے مطابق آئی سی سی نے اس معاملے کو حل کرنے کے لیے 21 جنوری کی آخری تاریخ (ڈیڈ لائن) مقرر کی ہے۔ اگر بنگلہ دیش اپنا فیصلہ نہیں بدلتا، تو آئی سی سی کے پاس متبادل ٹیم کے طور پر اسکاٹ لینڈ کو تیار کرنے کے لیے کم از کم 15 دن کا وقت درکار ہوگا۔آصف نظرول نے اپنی بات پر زور دیتے ہوئے کہا”ماضی میں ایسی مثالیں موجود ہیں کہ جب پاکستان نے ہندوستان جانے سے انکار کیا تو آئی سی سی نے مقام تبدیل کر دیا تھا۔ ہم نے منطقی بنیادوں پر وینیو تبدیل کرنے کی درخواست کی ہے، ہم پر کسی بھی قسم کا غیر منطقی دباؤ نہیں ڈالا جا سکتا۔
