ہومNationalمہاراشٹر کی 29 میونسپل کارپوریشنوں میں ووٹنگ

مہاراشٹر کی 29 میونسپل کارپوریشنوں میں ووٹنگ

Facebook Messenger Twitter WhatsApp

’سیاسی امتحان ‘ممبئی بی ایم سی انتخاب وقار کی جنگ میں تبدیل

ممبئی ، 15 جنوری (یو این آئی) مہاراشٹر کی 29 میونسپل کارپوریشنوں کے لیے ووٹنگ کا آغاز ہو چکا ہے، جسے ریاستی سیاست میں ایک منی اسمبلی الیکشن کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ پونے، کلیان۔ڈومبیولی، کولہاپور، ناسک اور ناگپور سمیت کئی شہروں میں ووٹنگ جاری ہے، مگر سب سے زیادہ توجہ بریہن ممبئی میونسپل کارپوریشن کے انتخاب پر مرکوز ہے، جو سیاسی طور پر سب سے اہم معرکہ بن چکا ہے۔ریاست کے سب سے امیر بلدیاتی ادارے ممبئی میونسپل کارپوریشن میں اس بار صورتحال غیر معمولی ہے، کیونکہ لگ بھگ پچیس برس تک غیر منقسم شیو سینا کے اقتدار کے بعد پہلی مرتبہ اقتدار کی جنگ پوری طرح کھلی نظر آ رہی ہے۔ اس انتخاب میں ادھو ٹھاکرے اور راج ٹھاکرے پہلی بار ایک ساتھ میدان میں ہیں، جس سے یہ مقابلہ نہ صرف ٹھاکرے خاندان بلکہ بی جے پی کی قیادت والی مہایوتی کے لیے بھی وقار کا مسئلہ بن گیا ہے۔بی ایم سی انتخاب میں بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس کی اتحادی شیو سینا (شندے) پوری طاقت کے ساتھ میدان میں ہیں، جبکہ ادھو ٹھاکرے کی قیادت والا اتحاد بھی سخت مقابلہ کر رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے مہایوتی کی مہم کی قیادت کرتے ہوئے ترقی اور نظم و نسق کو مرکزی نکتہ بنایا، جبکہ ٹھاکرے برادران نے مراٹھی میئر، کارپوریٹائزیشن کے خدشات اور ممبئی کی شناخت جیسے مسائل کو اجاگر کیا۔ ووٹنگ مکمل ہونے کے بعد اب سیاسی نظریں نتائج پر جمی ہوئی ہیں، جو ریاستی سیاست کی نئی کہانی لکھ سکتے ہیں۔ممبئی میونسپل کارپوریشن میں کل 227 نشستیں ہیں، جو اسے ریاست کی سب سے بااثر کارپوریشن بناتی ہیں۔ 2017 کے انتخابات میں شیو سینا نے میئر کا عہدہ حاصل کیا تھا، مگر اس بار سیاسی صف بندیاں بالکل مختلف ہیں۔ مہایوتی میں بی جے پی اور شیو سینا (شندے) شامل ہیں، جبکہ اپوزیشن اتحاد میں شیو سینا (ادھو)، مہاراشٹر نونرمان سینا اور شرد پوار کی قیادت والی این سی پی دھڑا شامل ہے۔ کانگریس نے ونچت بہوجن اگھاڑی سے اتحاد کیا ہے۔قریبی شہروں تھانے اور کلیان۔ڈومبیولی میں مہایوتی مشترکہ طور پر شیو سینا (ادھو) اور ایم این ایس کے خلاف مقابلہ کر رہی ہے۔ تھانے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا ہے، جبکہ کلیان۔ڈومبیولی میں اتحادوں کے درمیان براہِ راست مقابلہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔پونے اور پمپر ی۔چنچوڑ میں سیاسی منظرنامہ مختلف ہے۔ پونے میں بی جے پی جارحانہ انداز میں انتخاب لڑ رہی ہے، جبکہ پمپر ی۔چنچوڑ میں اصل مقابلہ بی جے پی اور اجیت پوار کی قیادت والی این سی پی کے درمیان ہے۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ اجیت پوار اور شرد پوار کی قیادت والے دونوں این سی پی دھڑے پونے اور پمپر ی۔چنچوڑ میں ایک ساتھ آئے ہیں، جو پوار خاندان کے گڑھ میں ایک غیر معمولی سیاسی منظر ہے۔ودربھ اور مراٹھواڑہ میں بی جے پی نے جارحانہ حکمت عملی اپنائی ہے۔ ناگپور میں پارٹی نے تمام 151 نشستوں پر مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جہاں اسے کانگریس اور این سی پی کا سامنا ہے۔ چھترپتی سمبھاجی نگر میں بی جے پی، شیو سینا (شندے) اور شیو سینا (ادھو) کے درمیان سہ رخی مقابلہ ہے، جبکہ بعض علاقوں میں اے آئی ایم آئی ایم کا اثر بھی دکھائی دے رہا ہے۔اکولہ، امراوتی اور لاتور جیسے شہروں میں بی جے پی کو کانگریس اور ونچت بہوجن اگھاڑی سے سخت چیلنج درپیش ہے۔ شمالی مہاراشٹر اور کھنڈیش خطے میں، جن میں ناسک، دھولیہ، جلگاؤں اور جالنہ شامل ہیں، بی جے پی کو مضبوط پوزیشن میں مانا جا رہا ہے، تاہم مہا وکاس اگھاڑی کے اتحادی جماعتوں سے مقابلہ جاری ہے۔ ناسک میں شیو سینا (ادھو)، ایم این ایس، کانگریس اور شرد پوار کی این سی پی دھڑے کے مشترکہ تجربے نے انتخابی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔مسلم اکثریتی شہروں جیسے مالیگاؤں، بھیونڈی، ناندیڑ اور چھترپتی سمبھاجی نگر میں سماجوادی پارٹی اور اے آئی ایم آئی ایم کے کردار کو فیصلہ کن مانا جا رہا ہے۔ وہیں کولہاپور، اچلکرنجی، امراوتی اور احمد نگر جیسے شہروں میں مقامی رہنماؤں، علاقائی اتحادوں اور آزاد امیدواروں کا کردار نتائج طے کرنے میں اہم ہو سکتا ہے۔

Jadeed Bharathttps://jadeedbharat.com
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.
Exit mobile version