اپوزیشن کا واک آؤٹ: ایس آئی آر کا جو طریقہ کار اپنایا جا رہا ہے وہ درست نہیں ہے
سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو ایس آئی آر کے عمل میں کسی بھی نئے لازمی قدم کو نافذ نہ کرنے کی ہدائت دی
نئی دہلی،10 مارچ (یواین آئی/ایجنسی) ) راجیہ سبھا میں منگل کے روز ووٹر لسٹوں کی خصوصی نظرثانی (ایس آئی آر) میں مبینہ بے ضابطگیوں کے معاملے پر اپوزیشن جماعتوں نے شدید احتجاج کیا بحث کی اجازت نہ ملنے پر ترنمول کانگریس اور کانگریس سمیت دیگر اپوزیشن ارکان نے ایوان سے احتجاجاً واک آؤٹ کر دیا ایوان کی کارروائی کے دوران اپوزیشن اور حکومتی بینچوں کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا ترنمول کانگریس کے رہنما ڈیریک او برائن نے نکتہ اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ مغربی بنگال میں جاری ایس آئی آر کا عمل شفاف نہیں ہے اور اس میں ہونے والی بے ضابطگیوں پر ایوان میں بحث ہونی چاہیے۔قائد حزب اختلاف ملکارجن کھرگے نے بھی اس مطالبے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ریاستوں میں ایس آئی آر کا جو طریقہ کار اپنایا جا رہا ہے وہ درست نہیں ہے۔ ایوان کے چیئرمین نے واضح کیا کہ وہ اپوزیشن کو اس موضوع پر بات کرنے کے متعدد مواقع دے چکے ہیں، لیکن ارکان نے ان کا فائدہ نہیں اٹھایا۔ انہوں نے رول 267 کے تحت دی گئی درخواستوں کو مسترد کر دیا۔جب چیئرمین نے بحث کی اجازت نہیں دی تو کانگریس اور ترنمول کانگریس کے ارکان ایوان کے درمیان(ویل میں) جمع ہو گئے اور نعرے بازی شروع کر دی۔ چیئرمین کی جانب سے بارہا خاموش رہنے کی اپیل کے باوجود ہنگامہ جاری رہا، جس کے بعد تمام اپوزیشن ارکان احتجاجاً ایوان سے باہر چلے گئے۔جگت پرکاش نڈا (قائد ایوان) کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کا مقصد بحث کرنا نہیں بلکہ صرف ایوان کی کارروائی میں خلل ڈالنا ہے۔ جب حکومت جواب دینے کے لیے تیار ہوتی ہے تو یہ واک آؤٹ کر جاتے ہیں، جو کہ انتہائی قابل مذمت ہے۔
اسی دوران آج سپریم کورٹ نے مغربی بنگال میں جاری خصوصی گہری نظرثانی کے عمل سے متعلق اہم ہدایات جاری کی ہیں۔ عدالت نے ریاستی حکومت اور الیکشن کمیشن کو ہدایت دی ہے کہ وہ عدالتی افسران کے لیے مناسب اور بلا تعطل حالات فراہم کریں تاکہ وہ اپنا کام آسانی سے انجام دے سکیں۔چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس آر مہادیون، اور جسٹس جویمالیہ باغچی پر مشتمل تین ججوں کی بنچ نے کہا کہ ایس آئی آر کے عمل میں تعینات عدالتی افسران نے اب تک 10.16 لاکھ اعتراضات اور دعووں کی سماعت کی ہے جن کو انتخابی فہرستوں سے ہٹانے کے خطرے کا سامنا ہے۔سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو ہدایت دی کہ وہ کلکتہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی منظوری حاصل کرنے تک ایس آئی آر کے عمل میں کسی بھی نئے لازمی قدم کو نافذ نہ کرے۔ عدالت نے یہ بھی ہدایت کی کہ الیکشن کمیشن کے پورٹل پر موجود تکنیکی مسائل کو فوری طور پر حل کیا جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ایسے مسائل دوبارہ نہ ہوں۔عدالت نے یہ بھی ہدایت کی کہ جوڈیشل افسران کے لیے نئی لاگ ان آئی ڈیز تیزی سے بنائی جائیں تاکہ ووٹر لسٹ پر نظرثانی کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہ سکے۔ اس نے یہ بھی واضح کیا کہ عدالتی افسران کے فیصلوں پر الیکشن کمیشن کا کوئی بھی انتظامی افسر نظرثانی نہیں کر سکتا۔سپریم کورٹ نے کہا کہ کلکتہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اپیلوں کی سماعت کے لیے سابق چیف جسٹس اور ہائی کورٹ کے ججوں کی بنچ تشکیل دے سکتے ہیں۔ عدالت نے الیکشن کمیشن کو اپیلٹ اتھارٹی کے قیام کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کی بھی ہدایت کی۔سپریم کورٹ مغربی بنگال میں جاری ایس آئی آر کے عمل سے متعلق عرضیوں کے ایک گروپ کی سماعت کر رہی تھی۔
