دفاعی تعاون کے دائرے کو وسعت دینے کے لیے ہند۔ جرمنی ایک روڈ میپ پر کام کریں گے: نریندر مودی
گاندھی نگر، 12 جنوری (یو این آئی) وزیر اعظم نریندر مودی نے جرمن چانسلر فریڈرک مرز کی موجودگی میں پیر کو گجرات کے گاندھی نگر میں کہا کہ مجھے یقین ہے کہ آج کی بات چیت سے ہندوستان-جرمنی شراکت داری کو نئی توانائی اور واضح سمت ملے گی۔مسٹر مودی نے کہا کہ آج سوامی وویکانند جینتی کے موقع پر مسٹر مرز کا ہندوستان میں استقبال کرنا میرے لئے خاص خوشی کا موضوع ہے۔ یہ ایک خوش کن اتفاق ہے کہ یہ سوامی وویکانند نے ہی ہندستان اور جرمنی کے درمیان فلسفہ، علم اور روح کا پل بنایا تھا۔ چانسلر مرز کا یہ دورہ اسی پل کو نئی توانائی، نیا اعتماد اور نئی توسیع فراہم کر رہا ہے۔انہوں نے کہا، “یہ مسٹر مرز کا نہ صرف ہندوستان بلکہ ایشیا کا چانسلر کے طور پر پہلا دورہ ہے۔ یہ اس بات کا مضبوط ثبوت ہے کہ وہ ہندوستان کے ساتھ تعلقات کو کتنی اہمیت دیتے ہیں۔ میں ان کی ذاتی توجہ اور عزم کے لئے ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ہندوستان جرمنی کے ساتھ اپنی دوستی اور شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے لئے پوری طرح پرعزم ہے۔ گجرات میں ہم کہتے ہیں ‘آوکارو مٹھو آپجے رے، یعنی محبت اورگرمجوشی کے ساتھ استقبال کرنا۔ اسی جذبے کے ساتھ ہم چانسلر مرز کا ہندوستان میں تہہ دل سے خیرمقدم کرتے ہیں۔”وزیر اعظم نے کہا کہ چانسلر مرز کا دورہ ایک خاص وقت پر ہورہا ہے۔ گزشتہ سال ہم نے اپنی اسٹریٹجک شراکت داری کے 25 سال مکمل کیے اور اس سال ہم سفارتی تعلقات کے 75 سال بھی منا رہے ہیں۔ یہ سنگ میل صرف وقت کی حصولیابیاں نہیں ہیں، یہ ہمارے مشترکہ عزائم، باہمی اعتماد اور ہمیشہ مضبوط ہونے والے تعاون کی علامت ہیں۔ ہندوستان اور جرمنی جیسے ممالک کی معیشتوں کے درمیان قریبی تعاون پوری انسانیت کے لیے ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ بڑھتے ہوئے تجارتی اور سرمایہ کاری کے تعلقات نے ہماری اسٹریٹجک شراکت داری کو نئی توانائی دی ہے۔ ہماری دوطرفہ تجارت اب تک کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے اور یہ 50 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے۔ 2,000 سے زیادہ جرمن کمپنیاں ہندوستان میں طویل عرصے سے موجود ہیں۔ یہ ہندوستان میں ان کے غیر متزلزل اعتماد اور یہاں موجود بے پناہ صلاحیت کی عکاسی کرتا ہے۔ آج صبح انڈیا-جرمنی سی ای او فورم میں اس کی واضح عکاسی ہوئی۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے پیر کے روز کہا کہ ہندوستان اور جرمنی کے درمیان تعلقات مشترکہ امنگوں اور باہمی اعتماد کی علامت ہیں اور دونوں ممالک دفاعی صنعتوں کے درمیان تعاون بڑھانے کے لیے ایک نئے روڈ میپ پر کام کریں گے۔ جرمنی کے چانسلر فریڈرک مرز سے ملاقات کے بعد انہوں نے بتایا کہ اس اقدام سے دفاعی شعبے میں مشترکہ ترقی اور مشترکہ پیداوار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ وزیر اعظم نے دفاعی تجارت سے متعلق طریقۂ کار کو آسان بنانے پر چانسلر مرز کا شکریہ بھی ادا کیا۔تعلیم کے شعبے میں شراکت داری کو مضبوط بنانے کے لیے وزیر اعظم نے جرمنی کی یونیورسٹیوں کو ہندوستان میں اپنے کیمپس قائم کرنے کی دعوت دی۔ انہوں نے کہا کہ اعلیٰ تعلیم کے لیے تیار کیا گیا جامع روڈ میپ اس شعبے میں دونوں ممالک کے تعاون کو ایک نئی سمت دے گا۔وزیر اعظم مودی نے اس بات پر زور دیا کہ چانسلر کا یہ دورہ خصوصی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ اس سال دونوں ممالک اپنے سفارتی تعلقات کے 75 سال بھی منا رہے ہیں۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان بات چیت کے دوران ٹیکنالوجی اور قابلِ تجدید توانائی جیسے شعبوں پر بھی تبادلۂ خیال ہوا۔ وزیر اعظم نے ہندوستان اور جرمنی کے تاریخی عوامی روابط کا ذکر کرتے ہوئے رابندر ناتھ ٹیگور، سوامی وویکانند اور میڈم بھیکاجی کاما کی خدمات کو یاد کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان عظیم شخصیات کے افکار اور خدمات نے جرمنی کے ساتھ ہندوستان کے ثقافتی اور فکری تعلقات کو ہمیشہ مضبوط کیا ہے۔مسٹر مودی نے عالمی امور پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان اور جرمنی کا ماننا ہے کہ موجودہ چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے عالمی اداروں میں اصلاحات ضروری ہیں۔ دونوں ممالک نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات کے لیے جی-4 کے ذریعے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ بات چیت کے دوران یوکرین اور غزہ جیسے تنازعات پر بھی گفتگو ہوئی۔ اس موقع پر وزیر اعظم نے ایک بار پھر دوہرایا کہ ہندوستان تنازعات کے پرامن حل کا حامی ہے۔
