کوریائی آن لائن گیم ’Korean Love‘ سے جڑے ہونے کا شبہ
غازی آباد، 4 فروری:۔ (ایجنسی) غازی آباد میں تین نابالغ بہنوں کے اپنے اپارٹمنٹ کی نویں منزل سے چھلانگ لگا کر جان دینے کے افسوسناک واقعے کو ایک کورین آن لائن ٹاسک بیسڈ گیم سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے، جس میں مبینہ طور پر خودکشی کو آخری ٹاسک کے طور پر شامل کیا گیا تھا۔ بچیوں کے والد چیتن کمار نے دعویٰ کیا ہے کہ گیم میں کل 50 ٹاسک تھے اور واقعے والے دن آخری ٹاسک مکمل کیا جانا تھا۔
والد کا دعویٰ اور گیم کا پس منظر
چیتن کمار نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ ان کی بیٹیاں ’کورین لو‘ نامی ایک آن لائن گیم کھیل رہی تھیں۔ ان کے مطابق انہیں اس بات کا کوئی اندازہ نہیں تھا کہ گیم کا آخری مرحلہ اتنا خطرناک ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچیوں نے کبھی اس حوالے سے گھر والوں کو کچھ نہیں بتایا۔
پولیس کی ابتدائی تفتیش
پولیس اس سانحہ کی تفتیش کر رہی ہے اور ابتدائی جانچ میں سامنے آیا ہے کہ تینوں بہنیں گیم کے چیلنجز کو مل کر مکمل کرتی تھیں۔ پولیس کا ماننا ہے کہ درمیانی بہن نے سرگرمیوں کو منظم کرنے میں مرکزی کردار ادا کیا اور وہ دیگر بہنوں کو ہدایات دیتی تھی۔ ایک افسر کے مطابق یہ واقعہ حادثاتی نہیں لگتا اور تمام زاویوں سے جانچ کی جا رہی ہے۔
واقعے کی رات کی تفصیل
والد کے مطابق واقعے کی رات وہ اور ان کی اہلیہ الگ الگ کمروں میں سو رہے تھے۔ لڑکیاں یہ کہہ کر کمرے سے نکلیں کہ وہ پانی پینے جا رہی ہیں۔ اس وقت ان کے ہاتھوں میں موبائل فون تھے، جنہیں بعد میں انہوں نے پیچھے پھینک دیا اور چھلانگ لگا دی۔ یہ واقعہ بدھ کی رات تقریباً 1:45 بجے پیش آیا۔
موبائل فون، نوٹ اور فارنسک جانچ
پولیس نے تینوں موبائل فون ضبط کر کے فارنسک جانچ کے لیے بھیج دیے ہیں۔ چیٹ ہسٹری، ایپ کے استعمال اور آن لائن روابط کی جانچ کی جا رہی ہے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ گیم سے بچیوں کو کس نے متعارف کرایا۔ فلیٹ سے ایک خودکشی نوٹ بھی برآمد ہوا ہے، جس میں ’ممی پاپا سوری‘ درج ہے۔ پولیس نوٹ اور ڈائری کے مندرجات کا مطالعہ کر رہی ہے تاکہ واقعے سے قبل بچیوں کی ذہنی حالت کو سمجھا جا سکے۔
