نئی دہلی، 12 مارچ (یو این آئی) حکومت نے جمعرات کو راجیہ سبھا میں واضح طور پر کہا ہے کہ اس کے پاس تاج محل یا تاریخی و آثارِ قدیمہ کی اہمیت کے حامل کسی بھی دوسرے محفوظ مقام کا نام تبدیل کرنے کی کوئی تجویز زیرِ غور نہیں ہے۔ثقافت کے وزیر گجیندر سنگھ شیخاوت نے ایوان میں وقفہ سوالات کے دوران اپنی وزارت سے متعلق ضمنی سوالات کا جواب دیتے ہوئے حکومت کی جانب سے یہ معلومات فراہم کیں۔ مارکسی کمیونسٹ پارٹی کے جان برٹاس نے اقلیتوں کے ثقافتی اور تاریخی ورثے کی حامل جگہوں اور یادگاروں پر مبینہ طور پر بڑھتے ہوئے حملوں کی خبروں اور تاج محل کا نام ‘تیجو مہال،کرنے کے مبینہ مطالبے سے متعلق سوال اٹھایا تھا، جس پر وزیر نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ امن و امان کا معاملہ ریاستوں کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔تاج محل کا نام بدلنے کے سوال پر مسٹر شیخاوت نے کہا کہ “وزارت کے سامنے ایسی کسی بھی جگہ کا نام تبدیل کرنے کا کوئی موضوع نہیں ہے۔”تامل ناڈو میں ویگئی ندی کی وادی میں قدیم شہری تہذیب کے مطالعہ کے لیے ‘کیلاڈی، کی کھدائی سے متعلق رپورٹ کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال پر وزیرِ ثقافت نے کہا کہ وہاں کھدائی کے کام سے متعلق افسر کی رپورٹ کی ماہرین کی کمیٹی کے ذریعے جانچ کرائی جا رہی ہے، جیسا کہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ طریقوں کے مطابق ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ رپورٹ ابھی موصول نہیں ہوئی ہے اور ماہرین کی رپورٹ ملنے کے بعد ہی اس پر مزید کام کیا جائے گا۔ترنمول کانگریس کے سکھیندو شیکھر رائے اور حزبِ اختلاف کے لیڈر ملکارجن کھڑگے کی جانب سے بعض آثارِ قدیمہ کے مقامات پر کھدائی کے کام میں تاخیر سے متعلق سوالات کے جواب میں مسٹر شیخاوت نے کہا کہ مودی حکومت کے دورِ اقتدار میں ایک دہائی کے دوران آثارِ قدیمہ کی اہمیت کے حامل مقامات پر کھدائی اور قدیم و ثقافتی یادگاروں کے تحفظ کی سمت میں بہت تیزی سے کام ہو رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ورثے کے تحفظ پر 2004 سے 2014 کے درمیان 1310 کروڑ روپے خرچ کیے گئے تھے، جبکہ مودی حکومت کے دس سالوں میں تحفظ پر کل بجٹ کا خرچ تین گنا بڑھ کر 3713 کروڑ روپے ہو گیا ہے۔
وزیرِ ثقافت نے کہا کہ حکومت نے تحفظ کے کاموں میں کارپوریٹ سیکٹر کو شامل کرنے کا منصوبہ بھی نافذ کیا ہے اور اس کے کافی مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ کھدائی کے کام پر ہونے والے اخراجات بھی گزشتہ دس سالوں میں اس سے پہلے کی اسی مدت کے مقابلے دو گنا ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ضرورت اور وسائل کی حدود کے درمیان کھدائی کے کاموں کو چلاتی ہے۔ اس میں اگر ریاستی حکومتوں کی جانب سے مناسب تعاون ملے تو کام میں آسانی اور تیزی آتی ہے۔وزیر موصوف نے 1984 میں گولڈن ٹمپل (سورن مندر) پر آپریشن بلیو اسٹار کے وقت سکھ ریفرنس لائبریری میں آگ لگنے سے ضائع ہوئی سکھ تاریخ کی نایاب کتابوں، مخطوطات اور دیگر دستاویزات کو مصنوعی ذہانت اور دیگر جدید ٹیکنالوجیز کے ذریعے دوبارہ تخلیق کرنے کے بارے میں عام آدمی پارٹی کے ستنام سنگھ سندھو کے ضمنی سوال کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے امکانات پر غور کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مودی حکومت نے روایتی علم کے مواد، مخطوطات اور ریکارڈز کے تحفظ کے لیے مشن ‘گیان بھارتم، شروع کیا ہے۔
