جسٹس ورما کی سرکاری رہائش گاہ سے مبینہ طور پر بے حساب نقدی ملنے کا معا ملہ
نئی دہلی، 16 جنوری (یو این آئی) سپریم کورٹ نے جمعہ کے روز الہٰ آباد ہائی کورٹ کے جسٹس یشونت ورما کی جانب سے دائر اس رِٹ عرضی کو خارج کر دیا، جس میں انہوں نے جج (جانچ) ایکٹ، 1968 کے تحت تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دینے کے لوک سبھا اسپیکر کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا، یہ فیصلہ جسٹس دیپانکر دتہ اور جسٹس ستیش چندر شرما پر مشتمل بنچ نے سنایا۔قابلِ ذکر ہے کہ جسٹس ورما کی سرکاری رہائش گاہ سے مبینہ طور پر بے حساب نقدی ملنے کے بعد ان کے خلاف شروع کی گئی مواخذے کی تحریک کے سلسلے میں یہ کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔ جسٹس ورما کی جانب سے پیش ہوئے سینئر ایڈوکیٹ مکُل روہتگی اور لوک سبھا سکریٹریٹ کی نمائندگی کرنے والے ہندوستان کے سالیسٹر جنرل تشار مہتہ کے دلائل سننے کے بعد 8 جنوری کو فیصلہ محفوظ کر لیا گیا تھا۔جسٹس ورما نے تحقیقاتی کمیٹی کے قیام کو اس بنیاد پر چیلنج کیا تھا کہ مواخذے کے نوٹس لوک سبھا اور راجیہ سبھا دونوں میں ایک ہی دن (21 جولائی) پیش کیے گئے تھے، اس کے باوجود لوک سبھا اسپیکر نے راجیہ سبھا کے چیئرمین کے فیصلے کا انتظار کیے بغیر اور لازمی مشترکہ مشاورت کے بغیر یکطرفہ طور پر کمیٹی تشکیل دی۔ عرضی میں دلیل دی گئی کہ اختیار کیا گیا طریقۂ کار جج (جانچ) ایکٹ، 1968 کی دفعہ 3(2) کے منافی تھا۔اس میں دفعہ 3(2) کی شق کا حوالہ دیا گیا، جس کے مطابق اگر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں ایک ہی دن کسی تجویز کے نوٹس پیش کیے جائیں تو اس وقت تک کوئی کمیٹی تشکیل نہیں دی جائے گی، جب تک کہ تجویز دونوں ایوانوں میں منظور نہ ہو جائے اور اگر منظور ہو جائے تو کمیٹی لوک سبھا اسپیکر اور راجیہ سبھا چیئرمین کی مشترکہ منظوری سے تشکیل دی جانی چاہیے۔یہ امر قابلِ توجہ ہے کہ 21 جولائی 2025 کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں جسٹس ورما کے مواخذے کا مطالبہ کرنے والی الگ الگ قراردادیں پیش کی گئی تھیں۔ اسی دن اُس وقت کے راجیہ سبھا چیئرمین جگدیپ دھنکھڑ نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ اس کے بعد 11 اگست کو راجیہ سبھا کے ڈپٹی چیئرمین نے ایوانِ بالا میں پیش کی گئی قرارداد کو مسترد کر دیا۔ ایک دن بعد 12 اگست کو لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے سپریم کورٹ کے جسٹس اروِند کمار، الہٰ آباد ہائی کورٹ کے موجودہ چیف جسٹس ایم۔ ایم۔ شری واستو اور سینئر ایڈوکیٹ بی۔ وی۔ آچاریہ پر مشتمل ایک تحقیقاتی کمیٹی کے قیام کا اعلان کیا۔سماعت کے دوران مسٹر روہتگی نے دلیل دی کہ چونکہ تجاویز دونوں ایوانوں میں بیک وقت پیش کی گئی تھیں، اس لیے تحقیقاتی کمیٹی صرف اسپیکر اور چیئرمین کی مشترکہ منظوری سے ہی تشکیل دی جا سکتی تھی۔ ان کے مطابق ڈپٹی چیئرمین کو راجیہ سبھا کی قرارداد مسترد کرنے کا اختیار حاصل نہیں تھا۔ تاہم سالیسٹر جنرل نے دلیل دی کہ کمیٹی کی تشکیل راجیہ سبھا کی قرارداد مسترد ہونے کے بعد ہی کی گئی تھی۔ بنچ نے تبصرہ کیا کہ چیئرمین کی عدم موجودگی میں ڈپٹی چیئرمین ان کے فرائض انجام دینے کے مجاز تھے۔ عدالت نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر کمیٹی کی تشکیل میں کسی قسم کے طریقہ کار کی خامی مان بھی لی جائے تو اس سے جسٹس ورما کو کس نوعیت کا نقصان پہنچا ہے۔ فیصلہ سرکاری ویب سائٹ پر دستیاب ہونے کے بعد مزید تفصیلات سامنے آئیں گی۔
