جھارکھنڈ سمیت 13 ریاستوں کو نوٹس، آئینی حقوق اور مذہبی آزادی زیر غور
نئی دہلی، 2 فروری:۔ (ایجنسی) سپریم کورٹ نے ملک کی مختلف ریاستوں میں نافذ تبدیلی مذہب مخالف قوانین کو چیلنج کرنے والی ایک اہم عرضی پر نوٹس جاری کرتے ہوئے متعلقہ ریاستی حکومتوں سے چار ہفتوں کے اندر جواب طلب کر لیا ہے۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ یہ معاملہ پہلے سے زیر التوا اسی نوعیت کی دیگر درخواستوں کے ساتھ سنا جائے گا، جن پر سال 2020 سے غور جاری ہے۔ اس فیصلے کو مذہبی آزادی اور آئینی حقوق کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ عرضی نیشنل کونسل آف چرچز ان انڈیا کی جانب سے دائر کی گئی ہے، جس میں راجستھان، اتر پردیش، ہریانہ، اتراکھنڈ، مدھیہ پردیش، گجرات، ہماچل پردیش، کرناٹک، جھارکھنڈ، چھتیس گڑھ، اروناچل پردیش اور اوڈیشہ میں نافذ تبدیلی مذہب مخالف قوانین کو غیر آئینی قرار دے کر منسوخ کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ یہ قوانین شہریوں کے بنیادی حقوق، بالخصوص مذہبی آزادی، ذاتی آزادی اور مساوات کے حق کی صریح خلاف ورزی کرتے ہیں۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ ان قوانین کے تحت ایسے ضابطے شامل کیے گئے ہیں جو کسی فرد کے مذہبی انتخاب کو مشکوک بنا دیتے ہیں اور ریاستی مداخلت کو غیر معمولی حد تک بڑھا دیتے ہیں۔ درخواست گزار نے عدالت سے عبوری راحت کی بھی مانگ کی ہے، جس کے تحت پولیس یا ریاستی انتظامیہ کو ان قوانین کے تحت کسی بھی قسم کی کارروائی سے روکے جانے کی ہدایت دینے کی اپیل کی گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان قوانین کا استعمال خاص طور پر اقلیتی برادریوں، بالخصوص عیسائیوں اور دیگر مذہبی گروہوں کے خلاف کیا جا رہا ہے اور جھوٹے یا بے بنیاد الزامات کے ذریعے ہراسانی میں اضافہ ہوا ہے۔ سپریم کورٹ نے اپنے ابتدائی ریمارکس میں کہا کہ یہ معاملہ پہلے سے زیر سماعت دیگر عرضیوں سے جڑا ہوا ہے، جن میں مختلف ریاستوں کے اسی طرح کے قوانین کی آئینی حیثیت کو چیلنج کیا گیا ہے۔ عدالت نے بتایا کہ اس پورے معاملے کی سماعت تین ججوں کی بنچ کرے گی، تاکہ اس حساس مسئلے کے تمام آئینی، سماجی اور قانونی پہلوؤں پر تفصیل سے غور کیا جا سکے۔ تبدیلی مذہب مخالف قوانین عموماً زبردستی، لالچ، دھوکہ دہی یا شادی کے ذریعے تبدیلی مذہب کو روکنے کے نام پر بنائے گئے ہیں۔ ان میں پیشگی اجازت، اطلاع دینے اور سخت سزاؤں جیسی شقیں شامل ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ دفعات شہریوں کی نجی زندگی اور مذہبی انتخاب کی آزادی پر حملہ ہیں اور عملی طور پر ان کا نفاذ امتیازی رویوں کو فروغ دیتا ہے۔ عدالت کی یہ سماعت مذہبی آزادی اور ریاستی اختیار کے درمیان توازن سے متعلق ایک وسیع اور اہم بحث کو آگے بڑھائے گی۔ سپریم کورٹ کے اس اقدام سے ان قوانین کی آئینی حیثیت پر حتمی فیصلے کی امید مضبوط ہوئی ہے، جو ملک کی سیکولر ساخت اور بنیادی حقوق کے مستقبل کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔
