ہومNationalوزیراعظم نے خواتین کے بل پر تمام جماعتوں کو لکھا خط

وزیراعظم نے خواتین کے بل پر تمام جماعتوں کو لکھا خط

Facebook Messenger Twitter WhatsApp

بل کو اتفاق رائے سے منظور کرنے کی اپیل

نئی دہلی، 12 اپریل (یو این آئی) خواتین کے ریزرویشن بل کے وقت کے تعلق سے ناراض اپوزیشن کے ساتھ اتفاق رائے پیدا کرنے کی حکومتی کوششوں کے درمیان، وزیر اعظم نریندر مودی نے لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں تمام سیاسی جماعتوں کے لیڈروں کو خط لکھ کر بل کو اتفاق رائے سے منظور کرنے کی اپیل کی ہے۔مسٹر مودی نے لوک سبھا اور اسمبلیوں میں خواتین کو 33 فیصد ریزرویشن دینے سے متعلق اس بل کو منظور کرانے کے لیے جمعرات سے ایک بار پھر شروع ہورہے پارلیمنٹ کے اجلاس سے قبل ہفتہ کو لکھے گئے خط میں اس بل پر ہوئی بحث کو تاریخی قرار دیتے ہوئے اسے جمہوریت کو مزید مضبوط بنانے کا موقع قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس بارے میں سب کے اجتماعی عزم کے جذبے کے ساتھ یہ خط لکھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ “16 اپریل سے پارلیمنٹ میں ‘ناری شکتی وندن ادھینیم،سے متعلق ایک تاریخی بحث ہونے جا رہی ہے۔ یہ خصوصی اجلاس ہماری جمہوریت کو مزید مضبوط بنانے کا ایک موقع ہے۔ یہ ایک ایسا لمحہ بھی ہے جب ہم سب مل کر آگے بڑھنے اور سب کو ساتھ لے کر چلنے کے اپنے اجتماعی عزم کو دہرا سکتے ہیں۔ میں اسی جذبے اور مقصد کے ساتھ آپ کو یہ خط لکھ رہا ہوں۔”وزیر اعظم نے ارکان پارلیمنٹ سے اپیل کی کہ وہ اس بل کو ایک آواز میں منظور کرنے کے لیے جماعتی سیاست سے اوپر اٹھ کر اتحاد کا مظاہرہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ “میں یہ خط اس لیے لکھ رہا ہوں تاکہ ہم سب ایک آواز میں اس ترمیم کو منظور کرنے کے لیے متحد ہوں۔ یہ اچھا ہوگا کہ زیادہ سے زیادہ ارکان پارلیمنٹ اس موضوع پر پارلیمنٹ میں اپنے خیالات کا اظہار کریں۔ یہ لمحہ کسی ایک پارٹی یا فرد سے بالاتر ہے۔ یہ خواتین اور ہماری آنے والی نسلوں کے تئیں ذمہ داری دکھانے کا وقت ہے۔ چونکہ تمام سیاسی جماعتیں طویل عرصے سے سیاست میں خواتین کی شرکت بڑھانے کی خواہش کا اظہار کرتی رہی ہیں، اس لیے اب اس خواہش کو حقیقت میں بدلنے کا یہ صحیح وقت ہے۔ یہ ملک کی ناری شکتی اور 140 کروڑ ہندوستانیوں کے لیے ایک عظیم کامیابی ہوگی۔ مجھے پورا یقین ہے کہ ہم سب ایک ساتھ آ کر پارلیمنٹ میں اس تاریخی کام کو مکمل کریں گے۔”انہوں نے معاشرے کی ترقی کے لیے خواتین کی ترقی اور انہیں فیصلہ سازی میں شراکت دار بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ “کوئی بھی معاشرہ تبھی ترقی کرتا ہے جب خواتین کو ترقی کرنے، فیصلے کرنے اور سب سے اہم، قیادت کرنے کا موقع ملتا ہے۔ ہندوستان کو ایک ترقی یافتہ ملک بنانے کے اپنے وژن کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ خواتین اس سفر میں مزید اور فعال رول ادا کریں۔ آج ہم عوامی زندگی کے مختلف شعبوں میں خواتین کی بڑھتی ہوئی شراکت داری دیکھ رہے ہیں۔ خلا سے لے کر کھیلوں تک، مسلح افواج سے لے کر اسٹارٹ اپس تک، ہندوستان کی بیٹیاں ہر شعبے میں اپنے نقوش چھوڑ رہی ہیں۔ اپنے محنت اور عزم کے بل بوتے وہ اپنی صلاحیتوں کو ثابت کر رہی ہیں۔”انہوں نے کہا کہ خواتین کے ریزرویشن کا موضوع دہائیوں سے زیر بحث رہا ہے اور اب اسے پورا کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ”پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کے ریزرویشن کا موضوع دہائیوں سے بحث کا حصہ رہا ہے۔ سال 2023 میں مختلف جماعتوں کے ارکان پارلیمنٹ ناری شکتی وندن ادھینیم کی حمایت میں پارلیمنٹ میں متحد ہوئے۔ وہ ایک یادگار لمحہ تھا جس نے ہماری یکجہتی کو ظاہر کیا۔ پوری دنیا نے دیکھا کہ ملک کی خواتین کے تئیں ایک عہد کو پورا کرنے کے لیے کس طرح اجتماعی طور پر ایک اہم فیصلہ لیا گیا۔ خواتین ہماری آبادی کا تقریباً نصف حصہ ہیں اور یہ سیاسی میدان میں ان کی شراکت داری بڑھانے کی سمت میں ایک مستحکم قدم تھا۔ میں اس دن کو ہندوستان کے پارلیمانی سفر کا ایک اہم اور متاثر کن سنگ میل مانتا ہوں۔”مسٹر مودی نے کہا کہ کئی ارکان پارلیمنٹ نے ناری شکتی وندن ادھینیم پر بحث میں حصہ لیا۔ ان مشاورتوں کے دوران اس کے نفاذ کے وقت پر بھی بات چیت ہوئی۔ اس بات پر وسیع اتفاق رائے تھا کہ اس تاریخی قانون کے التزامات کو جلد از جلد نافذ کیا جانا چاہیے۔ کئی جماعتوں کے لیڈروں کی بھی یہی رائے تھی۔ حال ہی میں ہم نے اس موضوع پر ماہرین سے مشورہ کیا ہے۔ ہم نے آئینی امور کے ماہرین سے تجاویز اور رہنمائی حاصل کی ہے۔ ہم نے سیاسی جماعتوں کے ساتھ بھی مذاکرات کئے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ تفصیلی غوروخوض کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اب وقت آ گیا ہے کہ پورے ملک میں ناری شکتی وندن ادھینیم کو اس کے اصل جذبے کے مطابق نافذ کیا جائے۔ یہ ضروری ہے کہ 2029 کے لوک سبھا انتخابات اور اسمبلی انتخابات خواتین کے ریزرویشن کے ساتھ منعقد کیے جائیں۔ اس سے ہندوستان کے جمہوری اداروں میں نئی توانائی پیدا ہوگی اور عوام کا اعتماد مضبوط ہوگا۔ یہ حکمرانی میں مزید شراکت داری اور نمائندگی کو بھی یقینی بنائے گا۔اپوزیشن نے الزام لگایا ہے کہ حکومت نے اس بل کے معاملے میں اسے اعتماد میں نہیں لیا اور اس کے لیے پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات ختم ہونے کا انتظار بھی نہیں کیا۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ حکومت کو اسمبلی انتخابات کے بعد ایک میٹنگ بلا کر پہلے اتفاق رائے پیدا کرنا چاہیے تھا۔ حکومت نے روایت سے ہٹ کر اس بار بجٹ سیشن کے دوسرے مرحلے کے دو اپریل کو مکمل ہونے کے بعد پارلیمنٹ کی کارروائی غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی نہیں کی تھی۔ حکومت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ 16، 17 اور 18 اپریل کو ہونے والی خصوصی میٹنگوں میں ناری شکتی وندن ادھینیم پر بحث کے بعد اس میں ترمیم کی جائے گی تاکہ لوک سبھا اور اسمبلیوں میں خواتین کو 33 فیصد ریزرویشن دیا جا سکے۔

Jadeed Bharathttps://jadeedbharat.com
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.