کیا مندروں میں بھی ایسی پابندی لگائی جاتی ہے؟ یوگی حکومت سے سوال
الہ آباد ، 17 مارچ:۔ (ایجنسی) سنبھل میں نمازیوں کی تعداد کو محدود کرنے کے معاملہ میں الہ آباد ہائی کورٹ نے اہم فیصلہ سنایا ہے۔ عدالت نے سنبھل ضلع انتظامیہ کے اس حکم کو منسوخ کر دیا جس میں مسجد میں صرف محدود تعداد میں نمازیوںکو نماز ادا کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔عدالت نے مناظر خان کی جانب سے داخل کی گئی عرضی کو ہدایات کے ساتھ نپٹا دیا اور ریاستی حکومت کو حکم دیا کہ نماز کے دوران مکمل سیکوریٹی کو یقینی بنایا جائے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ اگر کوئی شخص نماز میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کرتاہے تو اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
ادھر ، اس معاملہ میں مقامی ہندوباشندوں نےاجتماعی نماز پڑھنے کی مخالفت کرتے ہوئے انتظامیہ کو انتباہ دیا ہے کہ اگر ان کی بات نہیں سنی گئی تو وہ گاؤں چھوڑنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔پیرکوجسٹس اتل شری دھرن اور جسٹس سدھارتھ نندن پر مشتمل ڈویژن بنچ نے ضلع انتظامیہ کے حکم پر روک لگاتے ہوئے کہا کہ ہر حالت میں قانون و نظم برقرار رکھنا انتظامیہ کی ذمہ داری ہے۔ عدالت نے ہدایت دی کہ نماز ادا کرنے آنے والے تمام افراد کی سیکورٹی کو یقینی بنایا جائے۔ اگر کوئی نماز میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کرے تو اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔
اس سے پہلے سماعت کے دوران ہائی کورٹ نے سیکورٹی کے معاملے پر سنبھل کے ڈی ایم اور ایس پی کو سخت سرزنش بھی کی تھی۔ عدالت نے کہا تھا کہ اگر وہ سکیورٹی فراہم نہیں کر سکتے تو اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیں یا اپنا تبادلہ کرا لیں۔جسٹس اتل شری دھرن نے سماعت کے دوران سوال اٹھایا کہ کیا کہ مندر میں بھی اس طرح کی پابندیاں لگائی جاتی ہیں؟ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ مہا کمبھ میلہ میں بھگدڑ جیسا واقعہ پیش آیا تھا، تو کیا وہاں ہر تین اسکوائر فٹ پر صرف دو افراد کی پابندی لگائی گئی تھی؟
