نئی دہلی، 24 مارچ (یو این آئی) اپوزیشن نے لوک سبھا میں کہا کہ خلیجی جنگ کے اثرات کے باعث ملک میں ایندھن، غذائی اجناس اور ادویات کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے کے پیش نظر حکومت کو اپنی حکمت عملی واضح کرنی چاہئے کانگریس کے منیش تیواری نے ‘مالیاتی بل 2026’ پر بحث کے دوسرے دن کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ جن اندازوں کی بنیاد پر یہ بجٹ اور مالیاتی بل تیار کیا گیا ہے وہ حقیقت پسندانہ نہیں لگتے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے مغربی ایشیا کے بحران پر اپنی تقریر میں یہ نہیں بتایا کہ ملک کو آنے والے ممکنہ بحران کے لئے تیار کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن واضح کریں کہ خلیجی جنگ کا تیل، غذائی اشیاء اور ادویات کی قیمتوں پر کیا اثر پڑے گا۔ انہوں نے اندیشہ ظاہر کیا کہ مغربی بنگال انتخابات کے بعد قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔انہوں نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ حکومت بازار سے جو قرض لے رہی ہے کیا وہ صرف سود کی ادائیگی کے لئے ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ بارہ برسوں میں حکومت کا قرض اور ذمہ داریاں تین گنا بڑھ گئی ہیں، اس لئے یہ بجٹ مستقبل کے ہندوستان کا عکاس نہیں ہے۔بی جے پی کے نوین جندل نے کہا کہ عوام نے مسلسل ان کی پارٹی کو کامیابی دے کر ثابت کیا ہے کہ ‘سب کا ساتھ، سب کا وکاس،ان کا عزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن صرف تنقید پر توجہ دیتی ہے، جبکہ تنقید تبھی معنی رکھتی ہے جب اس میں حقائق ہوں۔ ان کے مطابق یہ بل ملک میں اقتصادی خوشحالی لانے میں مددگار ہوگا اور نوجوان نوکری مانگنے کے بجائے نوکری دینے والے بنیں گے۔جنتا دل یونائیٹڈ کے رام پریت منڈل نے کہا کہ بہار ایک غریب ریاست ہے اور وہاں منریگا مزدوروں کو کام نہ ملنے سے ان کی زندگی متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 12 مارچ سے ہو رہی بے موسم بارش کے باعث فصلوں کو نقصان پہنچا ہے اور آم و لیچی کی فصل بھی تباہ ہو گئی ہے، اس لئے حکومت کو فوری معاوضہ دینا چاہئے۔
