بھوپال، 3 جنوری (یو این آئی) مدھیہ پردیش کے اندور میں پینے کے آلودہ پانی کے سبب ایک درجن سے زائد افراد کی موت اور بڑی تعداد میں لوگوں کے متاثر ہونے کے معاملے پر حکمراں جماعت اور حزبِ اختلاف، دونوں ہی ریاستی حکومت پر سخت تنقید کر رہے ہیں۔لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر اور کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے اس معاملے کے حوالے سے سوشل میڈیا پر کہا ہے کہ مدھیہ پردیش اب بدانتظامی کا مرکز بن چکا ہے۔انہوں نے کل ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ’’اندور میں پانی نہیں، زہر بانٹا گیا اور انتظامیہ کُمبھ کرن کی نیند سوتی رہی۔ گھر گھر ماتم ہے، غریب بے بس ہیں اور اوپر سے بی جے پی لیڈروں کے متکبرانہ بیانات۔ جن گھروں کے چولہے بجھ گئے، انہیں تسلی کی ضرورت تھی؛ حکومت نے غرور پیش کر دیا۔‘‘انہوں نے سوال اٹھایا کہ لوگوں نے بار بار گندے اور بدبودار پانی کی شکایت کی، پھر بھی شنوائی کیوں نہیں ہوئی؟ سیور کا پانی پینے کے پانی میں کیسے ملا؟ وقت رہتے سپلائی کیوں بند نہیں کی گئی؟ ذمہ دار افسران اور لیڈروں کے خلاف کارروائی کب ہوگی؟ یہ معمولی سوال نہیں بلکہ جوابدہی کا مطالبہ ہے۔ صاف پانی کوئی احسان نہیں بلکہ زندگی کا حق ہے اور اس حق کے قتل کے لیے بی جے پی کا ڈبل انجن، اس کی لاپرواہ انتظامیہ اور بے حس قیادت پوری طرح ذمہ دار ہے۔مدھیہ پردیش اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف امنگ سنگھار نے بھی اس معاملے میں حکومت پر سوالات اٹھائے۔ انہوں نے کیگ کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اندور اور بھوپال میں فراہم کیے جانے والے گندے اور آلودہ پانی کی نشاندہی کیگ نے 2019 میں ہی کر دی تھی اور اسے درست کرنے کے لیے تجاویز بھی دی تھیں۔انہوں نے کہا کہ مدھیہ پردیش حکومت نے 2004 میں ایشین ڈیولپمنٹ بینک سے ریاست کے چار بڑے شہروں بھوپال، اندور، جبل پور اور گوالیار میں پانی کے انتظام کے لیے 200 ملین ڈالر (اس وقت تقریباً 906.4 کروڑ روپے) کا قرض 25 سال کے لیے لیا تھا۔ اس رقم کا مقصد شہری علاقوں میں پانی کی فراہمی میں اضافہ اور اس کے معیار کو بہتر بنانا تھا۔ منصوبے کا مقصد ہر فرد کو مناسب اور صاف پانی فراہم کرنا تھا۔قرض لینے کے تقریباً 15 سال بعد، ہندوستان کے کنٹرولر و آڈیٹر جنرل (کیگ) نے 2019 میں بھوپال اور اندور کے پانی کے انتظام سے متعلق رپورٹ جاری کی، جس میں دونوں شہروں میں سنگین خامیوں کی نشاندہی کی گئی اور بدعنوانی کو بے نقاب کیا گیا۔اسی دوران ریاست کی سابق وزیر اعلیٰ اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی سینئر رہنما اوما بھارتی نے بھی اس معاملے میں بغیر کسی کا نام لیے کہا کہ اندور کے آلودہ پانی کے معاملے میںیہ دعویٰ کون کر رہا ہے کہ ہماری بات نہیں سنی گئی؟ اگر آپ کی بات نہیں سنی گئی تو آپ عہدے پر رہتے ہوئے بسلیری کا پانی کیوں پیتے رہے؟ عہدہ چھوڑ کر عوام کے درمیان کیوں نہیں پہنچے؟ ایسے گناہوں کی کوئی وضاحت نہیں ہوتی، یا تو کفارہ یا سزا۔
