مصنوعی ذہانت انسانی تاریخ میں ایک تبدیلی لانے والے باب کی نشاندہی کرتی ہے۔ وزیر اعظم
نئی دہلی۔19؍فروری۔ ایم این این۔وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 کا افتتاح کیا ۔ اس موقع پر اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے جناب مودی نے کہا کہ دنیا کی سب سے بڑی اور تاریخی اے آئی امپیکٹ سمٹ ہندوستان میں منعقد ہو رہی ہے ، جو انسانیت کے چھٹے حصے کی نمائندگی کرتا ہے ۔ انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ ہندوستان دنیا کی سب سے بڑی نوجوانوں کی آبادی ، سب سے بڑا ٹیک ٹیلنٹ پول اور ایک ترقی پذیر ٹیک سے چلنے والا ماحولیاتی نظام کامرکز ہے ۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان نہ صرف نئی ٹیکنالوجیز تیار کرتا ہے ،بلکہ انہیں بے مثال رفتار سے اپناتا بھی ہے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ 140 کروڑ ہندوستانی نئی ٹیکنالوجی کو اپنانے کے لیے پرجوش ہیں اور ان کی جانب سے انہوں نے سربراہ اجلاس میں شرکت کرنے والے سربراہان حکومت ، عالمی اے آئی ماحولیاتی نظام کے قائدین اور اختراع کاروں کا پرتپاک خیر مقدم کیا ۔ انہوں نے ان کی موجودگی پر اظہار تشکر پیش کیا اور اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان میں اس سربراہ اجلاس کی میزبانی نہ صرف ملک بلکہ پورے گلوبل ساؤتھ کے لیے باعث فخر ہے۔جناب مودی نے اجاگر کیا کہ اس سمٹ میں مصنوعی ذہانت کی دنیا کی نمایاں شخصیات شریک ہیں اور 100 سے زائد ممالک کی نمائندگی کے ساتھ دنیا بھر سے ممتاز شرکاء نے حصہ لیا ہے، جس سے اس کی کامیابی نئی بلندیوں تک پہنچی ہے۔ انہوں نے سمٹ میں نوجوان نسل کی مضبوط موجودگی کو نمایاں کرتے ہوئےنئے اعتماد کا ذریعہ قرار دیا۔ انہوں نے مشاہدہ کیا کہ اگرچہ نئی ٹیکنالوجیز کو ابتدا میں اکثر شکوک و شبہات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن جس رفتار اور اعتماد کے ساتھ دنیا بھر کے نوجوان مصنوعی ذہانت کو قبول کر رہے ہیں، اس کی ذمہ داری لے رہے ہیں اور اسے استعمال کر رہے ہیں، جو بے مثال ہے۔وزیراعظم نے اے آئی سمٹ کی نمائش کے گرد پائے جانے والے جوش و خروش کا بھی ذکر کیا، خاص طور پر نوجوان صلاحیتوں کی بڑی شرکت کو نمایاں کیا۔ انہوں نے کہا کہ زراعت، سلامتی، دیویانگ جن (معذور افراد) کی معاونت اور کثیر لسانی آبادی کی ضروریات کو پورا کرنے جیسے شعبوں میں پیش کیے گئے حل ’’میڈ اِن انڈیا‘‘ کی طاقت کی عکاسی کرتے ہیں اور مصنوعی ذہانت کے میدان میں ہندوستان کی اختراعی صلاحیتوں کو نمایاں کرتے ہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ انسانی تاریخ میں ہر چند صدیوں میں ایک اہم موڑ سامنے آتا ہے جو تہذیب کی سمت کو بدلتا ہے ۔ انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ ایسے لمحات ترقی کی رفتار کو بدلتے ہیں اور سوچ ، افہام و تفہیم اور کام کرنے کے نمونوں کو تبدیل کرتے ہیں ۔ انہوں نے مشاہدہ کیا کہ تبدیلی کے ایسے ادوار کے دوران ، اصل اثر اکثر فوری طور پر نہیں سمجھا جاتا ہے ۔ انہوں نے یاد دلایا کہ جب پہلی بار پتھروں سے چنگاریاں پیدا ہوئیں تو کسی نے تصور بھی نہیں کیا تھا کہ وہی چنگاری انسانی تہذیب کی بنیاد بنے گی ۔ جناب مودی نے کہا کہ جب بولی جانے والی زبان کو پہلی بار رسم الخط میں تبدیل کیا گیا تو کسی کو یہ احساس نہیں تھا کہ تحریری علم مستقبل کے نظام کی ریڑھ کی ہڈی بن جائے گا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب سگنلز کو پہلی بار وائرلیس طریقے سے منتقل کیا گیا تو کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ ایک دن پوری دنیا حقیقی وقت میں جڑی ہوگی ۔
