چنئی، 18 مارچ (یو این آئی) طویل مذاکرات اور 2021 کے مقابلے میں زیادہ نشستوں کے مطالبے کے باوجود، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) نے بالآخر تمل ناڈو کی حکمران جماعت ڈی ایم کے کی درخواست قبول کر لی۔ بدھ کے روز دونوں جماعتوں نے 23 اپریل کے اسمبلی انتخابات کے لیے نشستوں کی تقسیم کے معاہدے پر دستخط کیے، جس کے تحت سی پی آئی پانچ نشستوں پر انتخاب لڑے گی۔تین مرحلوں کی بات چیت اور زیادہ نشستوں کے مطالبے پر ڈٹے رہنے کے باوجود سی پی آئی نے آخر کار ڈی ایم کے کی اس درخواست کو قبول کر لیا کہ اتحاد میں نئی جماعتوں کی شمولیت کی وجہ سے وہ اپنے مطالبے میں کمی کرے۔ سی پی آئی کا اصرار تھا کہ اسے کم از کم گزشتہ سال کی طرح چھ نشستیں دی جائیں، تاہم ڈی ایم کے مسلسل ایک نشست چھوڑنے کی درخواست کرتی رہی۔بات چیت کے چوتھے دور کے بعد ڈی ایم کے کے ہیڈ کوارٹر ’انا اریوالیم‘ میں سی پی آئی کے ریاستی سکریٹری ایم ویرا پانڈین اور ڈی ایم کے صدر و وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن نے معاہدے پر دستخط کیے۔معاہدے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایم ویرا پانڈین نے کہا کہ ’’اگرچہ سی پی آئی نے مذاکرات کے ابتدائی تین مرحلوں میں زیادہ نشستوں کا مطالبہ کیا تھا، لیکن ڈی ایم کے نے اتحاد میں نئی جماعتوں کی موجودگی کا حوالہ دیتے ہوئے ہم سے ایک نشست کم کرنے کی ‘درخواست، کی۔ ہم نے بی جے پی جیسی تفرقہ انگیز طاقتوں کا متحدہ طور پر مقابلہ کرنے کے لیے پانچ نشستوں پر اتفاق کیا ہے، جو اس پرامن ریاست میں مسائل پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔‘‘مسٹر ویرا پانڈین نے مزید کہا کہ ڈی ایم کے نے سی پی آئی پر کم نشستیں لینے کے لیے کوئی دباؤ نہیں ڈالا اور نہ ہی کوئی دھمکی دی۔ انہوں نے ٹی وی کے لیڈر آدھو ارجن کے اس بیان کی بھی تردید کی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ سپر اسٹار رجنی کانت ڈی ایم کے کی مبینہ دھمکیوں کی وجہ سے سیاست سے پیچھے ہٹ گئے۔ (رجنی کانت پہلے ہی اسے جھوٹ قرار دے چکے ہیں)۔اس معاہدے کے ساتھ ہی ڈی ایم کے نے اپنے چھ شراکت داروں کے ساتھ نشستوں کی تقسیم کا عمل مکمل کر لیا ہے۔ کانگریس کو 28، ایم ڈی ایم کے کو 4، آئی یو ایم ایل اور منی تھنیہ مکل کچی کو 2-2، کے ایم ڈی کے کو 2 اور سی پی آئی کو 5 نشستیں دی گئی ہیں۔تمل ناڈو کی کل 234 نشستوں میں سے اب تک 43 نشستیں چھ اتحادیوں کو دی جا چکی ہیں۔ بقیہ 191 نشستوں کے لیے ڈی ایم کے کو دیگر جماعتوں جیسے وی سی کے، وجے کانت کی ڈی ایم ڈی کے، کمل حسن کی ایم این ایم اور سی پی آئی ایم کے ساتھ معاملات طے کرنا ہیں۔ڈی ایم کے نے 2021 کے انتخابات میں 173 سیٹوں پر الیکشن لڑا تھا۔ جن میں سے 133 جیت کر 10 سال بعد حکومت بنائی تھی اور ایم کے اسٹالن پہلی بار وزیر اعلیٰ بنے تھے۔ڈی ایم کے، جو ’’دراوڈین ماڈل 2.0‘‘ حکومت کے وژن کے ساتھ دوبارہ اقتدار میں آنے کے لیے پراعتماد ہے، آئندہ چند دنوں میں بقیہ اتحادیوں کے ساتھ بھی معاہدوں پر دستخط کرے گی۔
