کیس کے دیگر ملزمان گلفشا ںفاطمہ، میران حیدر، شفا الرحمان، محمد سلیم خان اور شاداب احمد کی ضمانت منظور
نئی دہلی 05 جنوری (ایجنسی) سپریم کورٹ نے آج 2020 کے دہلی فسادات کیس میں عمر خالد، شرجیل امام اور دیگر ملزمان کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت کی۔ عدالت نے قرار دیا کہ طویل قید ضمانت کی بنیاد نہیں ہے۔ ان دونوں کی ضمانت مسترد کرنے کے علاوہ عدالت نے کیس کے دیگر ملزمان گلفشہ فاطمہ، میران حیدر، شفا الرحمان، محمد سلیم خان اور شاداب احمد کی بھی ضمانت منظور کی۔عدالت نے کہا کہ UAPA کے تحت دونوں کے خلاف پہلی نظر میں الزامات سنگین ہیں، اس لیے انہیں اس مرحلے پر راحت نہیں دی جا سکتی۔ جسٹس اروند کمار اور جسٹس این وی انجاریا کی بنچ نے کہا کہ عمر خالد اور شرجیل امام کے خلاف الزامات سنگین ہیں اور یو اے پی اے میں طے شدہ شرائط کو پورا کرتے ہیں۔ اس لیے مقدمے کی سماعت میں تاخیر کو ضمانت کے لیے موزوں بنیاد نہیں سمجھا جا سکتا۔واضح رہے کہ 10 دسمبر 2025 کو تمام ملزمان کی درخواست ضمانت پر سماعت کے بعد سپریم کورٹ نے فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔ عدالت نے دونوں فریقوں کو 18 دسمبر تک اپنے دلائل کی حمایت کرنے والے تمام دستاویزات جمع کرانے کو بھی کہا۔عدالت نے کہا کہ UAPA کے تحت دونوں کے خلاف پہلی نظر میں الزامات سنگین ہیں اور اس لیے انہیں اس مرحلے پر راحت نہیں دی جا سکتی۔ جسٹس اروند کمار اور جسٹس این وی انجاریا کی بنچ نے کہا کہ عمر خالد اور شرجیل امام کے خلاف الزامات سنگین ہیں اور یو اے پی اے میں طے شدہ شرائط کو پورا کرتے ہیں۔ اس لیے مقدمے کی سماعت میں تاخیر کو ضمانت کے لیے موزوں بنیاد نہیں سمجھا جا سکتا۔
۔سپریم کورٹ کی جانب سے ضمانت کی منسوخی کے بعد عمر خالد کے والد الیاس نے کہا کہ 2020 کے دہلی فسادات سازش کیس میں ضمانت مسترد ہونے کے بارے میں ان کے پاس کہنے کو کچھ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر میرے پاس کہنے کو کچھ نہیں ہے اور فیصلہ آپ کے سامنے ہے۔عمر خالد، شرجیل امام، گلفشہ فاطمہ، میران حیدر، اور رحمان کو غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے) اور تعزیرات ہند (آئی پی سی) کے تحت سنگین الزامات کا سامنا ہے۔ پولیس نے بتایا کہ یہ افراد فروری 2020 کے تشدد کے اہم سازشی تھے، جس میں 53 افراد ہلاک اور 700 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔ پولیس کے مطابق، تشدد سی اے اے اور این آر سی کے خلاف جاری مظاہروں کے دوران شروع ہوا، لیکن اس کا مقصد محض احتجاج سے آگے بڑھ کر عدم استحکام پیدا کرنا تھا۔2020 میں شہریت ترمیمی قانون اور شہریوں کے قومی رجسٹر کے خلاف مظاہروں کے دوران دہلی کے شمال مشرقی علاقوں میں تشدد پھوٹ پڑا۔ تشدد اور آتش زنی کے دوران تریپن افراد ہلاک ہوئے۔ ناراض مظاہرین نے مرکزی حکومت کے فیصلوں یعنی نیشنل رجسٹر آف سٹیزن (این آر سی) اور شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے خلاف مظاہرہ کیا تھا۔ تاہم، دہلی پولیس کے الزامات میں مظاہرین کے خلاف کئی سنگین الزامات لگائے گئے۔
