درگاہ حضرت بل میں سب سے بڑی تقریب
سری نگر،17جنوری(یو این آئی) وادی کشمیر میں معراج النبی(ص) کی مقدس اور روح پرور تقریبات نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منائی گئیں۔ سنیچر کو سب سے بڑی اور تاریخی تقریب درگاہ حضرتبل میں منعقد ہوئی جہاں صبحِ صادق سے ہی زائرین کے غیرمعمولی ہجوم نے روحانی فضا کو معطر کر دیا۔ہفتے کی صبح ہی سے جھیل ڈل کے کنارے ، سڑکیں اور قریبی راستے زائرین سے بھرنے لگے۔ بانڈی پورہ، کپوارہ، بارہمولہ، اننت ناگ، شوپیاں، کولگام اور بڈگام سمیت مختلف اضلاع سے ہزاروں مرد، خواتین، بچے اور بزرگ قافلوں کی شکل میں درگاہ پہنچے۔محکمہ اوقاف، انتظامیہ اور پولیس نے ٹریفک، پارکنگ، سیکورٹی اور صفائی کے غیر معمولی انتظامات کیے تھے، جس کے باعث زائرین کو رواں سال پچھلے برسوں کے مقابلے بہتر اور منظم سہولیات حاصل رہیں۔ایک 65 سالہ زائرہ بیگم فاطمہ جوبانڈی پورہ سے اپنی فیملی کے ساتھ درگاہ پہنچی تھیں، جذبات سے لبریز آواز میں کہتی ہیں:’ہر سال ہم یہاں آتے ہیں، مگر آج کی زیارت نے دل کو ایک نئی روشنی دی۔ ایسا لگتا ہے جیسے پوری وادی پر اللہ کا خاص رحم نازل ہو رہا ہے۔‘معراج کی نسبت سے درگاہ حضرتبل میں گزشتہ شب شب بیداری کا خصوصی اہتمام بھی کیا گیا۔ رات بھر علما کرام نے معراج النبی(ص) کی حکمت، اس سفر کی عظمت اور امتِ مسلمہ کے لیے اس کے پیغام پر روشنی ڈالی۔مسجد کے مرکزی منبر پر خطاب کرتے ہوئے معروف عالم دین مولانا ریاض نے فرمایا:’معراج محض ایک معجزہ نہیں، بلکہ اللہ کے محبوبؐ کی شانِ خاص اور امت کے لیے امید و حوصلے کا عظیم استعارہ ہے۔
یہ رات ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ایمان، اخلاق، عدل اور انسانیت کی سربلندی ہماری اصل ذمہ داری ہے۔‘انہوں نے مزید کہا کہ وادی کے حالات چاہے جیسے ہوں، ایمان کی روشنی کبھی مدھم نہیں ہوتی اور درگاہ حضرتبل میں جمع یہ عظیم اجتماع اس بات کا بین ثبوت ہے۔دوپہر تقریباً 2 بجے نمازِ ظہرین کی ادائیگی کے بعد جب موئے مقدس(ص) کی زیارت کرائی گئی تو ہزاروں عقیدتمندوں کے ہونٹوں سے درودِ پاک کی صدائیں بلند ہوئیں۔بہت سے لوگ بے اختیار رونے لگے، کئی دیر تک ہاتھ اُٹھائے دعائیں مانگتے رہے، جبکہ کچھ بزرگ خاموش آنسو بہاتے ہوئے جلالِ مصطفیؐ میں گم ہو گئے۔زائرین میں موجود ایک نوجوان ارشد احمد، جو بارہمولہ سے صبح تین بجے روانہ ہوا تھا، نے کہا:’معراج کی اس عظیم نسبت کے دن موئے مقدسؐ کا دیدار نصیب ہونا زندگی کی سب سے بڑی سعادت ہے۔ انسان کی ساری تھکن، ساری پریشانیاں جیسے پل بھر میں دور ہو جاتی ہیں۔‘تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مختلف علمائے کرام نے وادی کشمیر کے مسلمانوں کو اتحاد، باہمی بھائی چارے، اخلاقِ محمدی(ص) اور نوجوان نسل کی تربیت پر زور دینے کی ضرورت کو اجاگر کیا۔علمائ نے اس موقع پر کہا معراج کا پیغام یہ ہے کہ انسان اپنی روح کو پاک کرے، دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرے، اور دنیا میں رہتے ہوئے آخرت کو نہ بھولے۔ کشمیر کے حالات چاہے جیسے ہوں، ہمیں صبر، حکمت اور امن کی راہ کو ہی اپنا کر آگے بڑھنا ہے۔زیارت کے دوران زائرین نے خصوصی طور پر وادی میں امن، رحمت باراں، نوجوان نسل کی حفاظت، بیماروں کی صحت یابی اور معاشی مشکلات کے خاتمے کی دعائیں مانگیں۔درگاہ حضرتبل کے اطراف میں آج دن بھر بازاروں میں غیرمعمولی رش دیکھا گیا۔ نان فروش، قہوہ فروش، روایتی کشمیری دستکاریاں، ملبوسات اور کھانے پینے کے اسٹالوں پر لوگوں کا ہجوم رہا۔جھیل ڈل کی سمت سے آنے والی شیکاراؤں پر بھی زائرین کا مسلسل سلسلہ دیکھا گیا جو منظر کو مزید روحانی اور حسین بنا رہا تھا۔
