بار بار طلب کیے جانے سے پریشان ہو کر ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے ہندوستانی شناخت کی توثیق کا مطالبہ کیا
مالدہ، 20 جنوری:۔ (ایجنسی)مالدہ کے ہریش چندر پور بلاک کے واری دولت پور کے رہائشی سالک نے اپنے دادا کی قبر سے مٹی لے کر ایس آئی آر سماعت سنٹر پہنچ کر ڈی این اے ٹیسٹ کرانے کا مطالبہ کیا تاکہ اپنی ہندوستانی شناخت ثابت کر سکے۔ سالک کے مطابق انہیں بار بار سماعت کے لیے طلب کیا جا رہا ہے اور متعدد دستاویزات مانگی جا رہی ہیں، حالانکہ تمام پرانے کاغذات والد کے نام پر موجود ہیں اور دادا کے نام پر کوئی دستاویز نہیں۔ واقعہ پیر کو ہریش چندر پور میں پیش آیا اور اس نے انتظامیہ پر ہراسانی کے الزامات عائد کیے۔
خاندانی دستاویزات اور شک و شبہات
سالک کے خاندان کے ہر فرد کو سماعت کے لیے طلب کیا گیا ہے۔ باوجود اس کے کہ وہ تمام موجودہ دستاویزات پیش کر چکے ہیں، الیکشن کمیشن کے حکام کے شکوک و شبہات برقرار ہیں۔ زمین کے کاغذات مانگنے کے بعد، سالک نے اپنے دادا کی قبر کی مٹی لے کر سماعت سنٹر پہنچنے کا فیصلہ کیا تاکہ ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے اپنی پہچان واضح ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ کمیشن کے اہلکار مسئلہ سمجھنے کی بجائے مسلسل ہراساں کر رہے ہیں، اور شہریوں کو طویل قطاروں میں انتظار کرنا پڑتا ہے۔
الیکشن کمیشن کا موقف
چنچل کے ای آر او اور سب ڈویژنل آفیسر ریتھک ہزارا نے کہا کہ کمیشن کے رہنما خطوط کے مطابق کارروائی جاری ہے اور دوسری سماعت کے لیے نوٹسز بھیجے جا رہے ہیں۔ انہوں نے مزید وضاحت سے اجتناب کیا۔
سیاسی ردعمل
اس واقعہ نے بی جے پی اور ترنمول کانگریس کے درمیان بحث کو جنم دیا۔ بی جے پی کے ضلع رکن کشن کیڈیا نے اسے ترنمول کانگریس کے منصوبے کا حصہ قرار دیا اور الزام لگایا کہ پارٹی عوام کو گمراہ کر رہی ہے۔ اس کے برعکس، ترنمول کانگریس کے ضلع جنرل سکریٹری ضیاء الرحمن نے کہا کہ واقعہ عوام میں خوف کی عکاسی کرتا ہے اور بی جے پی الیکشن کمیشن کا غلط استعمال کر کے شہریوں کو ہراساں کر رہی ہے۔ انہوں نے الزام کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ عوام ووٹ کے ذریعے اس کا جواب دیں گے۔
