دو طرفہ تعلقات کو نئی جہت دینے کی کوشش؛ دفاع، تجارت اور ٹیکنالوجی میں تعاون پر بات چیت متوقع
نئی دہلی، 7 فروری:۔ (ایجنسی)ہندوستان اور ملیشیا کے باہمی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کے تحت وزیر اعظم نریندر مودی ہفتہ کے روز دو روزہ سرکاری دورے پر ملیشیا پہنچ گئے۔ کوالالمپور ایئرپورٹ پر ان کا پرتپاک استقبال ملیشیائی وزیر اعظم انور ابراہیم نے کیا۔ روانگی سے قبل وزیر اعظم مودی نے کہا تھا کہ ہندوستان، ملیشیا کے ساتھ دفاع، معیشت، سیکورٹی اور اینوویشن جیسے اہم شعبوں میں تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جانا چاہتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے تعلقات تاریخی نوعیت کے حامل ہیں جو حالیہ برسوں میں مزید مضبوط ہوئے ہیں۔
اسٹریٹجک شراکت داری کو وسعت دینے پر زور
وزیر اعظم نریندر مودی نے اس دورے کے حوالے سے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ملیشیائی وزیر اعظم انور ابراہیم کے ساتھ تفصیلی مذاکرات کے منتظر ہیں۔ ان کے مطابق بات چیت کا مرکز دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو آگے بڑھانا ہوگا، جس میں دفاعی و سیکورٹی تعاون کے ساتھ ساتھ تجارت، سرمایہ کاری، جدید ٹیکنالوجی اور اختراعی شعبوں کو فروغ دینا شامل ہے۔
ہند نژاد برادری میں جوش و خروش
خبر رساں ایجنسی آئی اے این ایس کے مطابق وزیر اعظم مودی کے دورۂ ملیشیا کو لے کر وہاں مقیم ہند نژاد برادری میں خاصا جوش و خروش پایا جاتا ہے۔ کوالالمپور میں ان کے اعزاز میں ایک بڑے کمیونٹی پروگرام کا اہتمام کیا جا رہا ہے، جسے ’ویلکم مودی جی‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اس پروگرام کی نمایاں خصوصیت یہ ہوگی کہ 750 سے زائد فنکار ایک ساتھ اسٹیج پر کمیونٹی ڈانس پیش کریں گے۔
کانگریس کی تنقید اور پرانے دورے کا حوالہ
دوسری جانب کانگریس نے وزیر اعظم کے دورۂ ملیشیا سے قبل سیاسی تنقید کا سلسلہ بھی شروع کر دیا ہے۔ کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں یاد دلایا کہ اکتوبر 2025 کے اواخر میں وزیر اعظم کا کوالالمپور کا مجوزہ دورہ آخری وقت میں منسوخ کر دیا گیا تھا۔ ان کے مطابق اس کی وجہ یہ تھی کہ اسی دوران امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ ملیشیا میں موجود تھے، جس کے باعث وزیر اعظم نے صرف آسیان رہنماؤں کے ساتھ ورچوئل میٹنگ پر اکتفا کیا۔
ڈاکٹر منموہن سنگھ کے حوالے سے یاد دہانی
جئے رام رمیش نے اپنی پوسٹ کے ساتھ ملیشیائی وزیر اعظم انور ابراہیم کا وہ پرانا تعزیتی پیغام بھی شیئر کیا، جو انہوں نے سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کے انتقال پر جاری کیا تھا۔ اس بیان میں انور ابراہیم نے ڈاکٹر منموہن سنگھ کو ہندوستان کی معاشی اصلاحات کا معمار قرار دیتے ہوئے ان کی قیادت اور عالمی سطح پر ہندوستان کے معاشی ابھار میں کردار کو سراہا تھا۔ کانگریس لیڈر نے اس بیان کی یاد دہانی اس تناظر میں کرائی ہے کہ موجودہ مودی حکومت اکثر ڈاکٹر منموہن سنگھ اور یو پی اے دور کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بناتی رہی ہے۔
