پارلیمنٹ میں ایک سوال کے جواب میں مرکزی حکومت کا انکشاف
نئی دہلی، 15 فروری:۔ (ایجنسی)مرکزی حکومت نے پارلیمنٹ کو آگاہ کیا کہ گزشتہ10؍ سالوں میں چیف جسٹس کے دفتر کو موجودہ ججوں کے خلاف 8630؍ شکایات موصول ہوئیں، ان میں سب سے زیادہ شکایات2024ء میں موصول ہوئیں، جو1170؍ تھیں، جبکہ سب سے کم2020ء میں 518؍ تھیں۔ مرکزی حکومت نےیہ اطلاع جمعہ کو پارلیمنٹ میں ایک سوال کے جواب میں کہا کہ گزشتہ10؍ سالوں میں چیف جسٹس کے دفتر کو موجودہ ججوں کے خلاف 8630؍ شکایات موصول ہوئیں۔ وزیر مملکت برائے قانون و انصاف ارجن رام میگھوال کی طرف سے لوک سبھا میں پیش کردہ اعداد و شمار2016ء سے 2025ء کے درمیان موصول ہونے والی شکایات کے مطابق سب سے زیادہ شکایات2024ء میں موصول ہوئیں، جو1170؍ تھیں، جبکہ سب سے کم2020ء میں 518؍ تھیں۔ دراصل میگھوال، ڈی ایم کے کے رکن پارلیمنٹ متھیشورن وی ایس کے سوال کا جواب دے رہے تھے، جنہوں نے ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کے ججوں کے خلاف بدعنوانی، جنسی بدسلوکی یا دیگر سنگین جرائم سے متعلق شکایات کی فہرست مانگی تھی۔ ڈی ایم کے رکن نے پوچھا کہ آیا ان شکایات پر کوئی کارروائی کی گئی؟ انہوں نے یہ بھی جاننا چاہا کہ کیا مرکزی حکومت کو سپریم کورٹ کی جانب سے ایسی شکایات کا ریکارڈ یا ڈیٹا بیس برقرار رکھنے کے لیے استعمال کیے جانے والے کسی طریقہ کار کے بارے میں معلومات ہے؟ تاہم وزیر نے کارروائی یا ریکارڈ کی دیکھ بھال سے متعلق سوال کا جواب نہیں دیا۔ جبکہ میگھوال نے کہا کہ داخلی طریقہ کار کے مطابق چیف جسٹس آف انڈیا اور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس، ججوں کے خلاف شکایات وصول کرنے کے مجاز ہیں۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ کا داخلی طریقہ کار ہے جو ججوں کے خلاف بدانتظامی کے الزامات سے نمٹنے کے لیے ہے۔ وزیر نے یہ بھی بتایا کہ سنٹرلائزڈ پبلک گریوینس ریڈریس اینڈ مانیٹرنگ سسٹم (CPGRAMS) یا کسی اور شکل کے ذریعے عدلیہِ عالیہ کے اراکین کے خلاف موصول ہونے والی شکایات متعلقہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس یا چیف جسٹس آف انڈیا کو بھیج دی جاتی ہیں۔
