ممبئی ، 6 جنوری (یو این آئی) مہاراشٹر کے وزیر اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن اسمبلی نتیش رانے کے ایک اشتعال انگیز بیان نے ریاست میں تازہ سیاسی تنازع کو جنم دیا ہے۔ یہ واقعہ ایک عوامی اجتماع کے دوران پیش آیا، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے۔ یہ بیان آئندہ بلدیاتی انتخابات کے پس منظر میں سامنے آیا ہے، جن میں 2026 میں ہونے والے بریہن ممبئی میونسپل کارپوریشن کے انتخابات بھی شامل ہیں۔ویڈیو میں نتیش رانے کو آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اور حیدرآباد کے رکن پارلیمان اسدالدین اویسی کے خلاف انتہائی جارحانہ زبان استعمال کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ مبینہ طور پر انہوں نے کہا کہ “اویسی کے پاجامے کا ناڑا کھینچ کر اویسی کو ’’لو جہاد‘‘کی حقیقت دیکھانے انہیں زبردستی مخصوص مقامات پر لے جا کر دکھائیں گے۔ مسٹر رانے نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ وہ اویسی کو یہ دکھائیں گے کہ ان کے بقول ایک مخصوص مذہبی ذہنیت کس طرح ہندو بہنوں کی زندگیاں برباد کر رہی ہے۔کانکاولی سے تعلق رکھنے والے وزیر نے ایم آئی ایم قیادت کو چیلنج کرتے ہوئے تاریخ اور مقام بتانے کو کہا اور دعویٰ کیا کہ وہ خود اویسی کو وہاں لے جائیں گے۔ اس دوران پس منظر میں ان کے حامیوں کی جانب سے نعرے بازی بھی سنائی دی۔مسٹر نتیش رانے ماضی میں بھی اشتعال انگیز بیانات کے باعث تنازعات میں رہے ہیں اور اطلاعات کے مطابق ان کے خلاف 38 سے زائد پولیس مقدمات درج ہیں، جن میں 20 مبینہ نفرت انگیز تقاریر سے متعلق بتائے جاتے ہیں۔ یہ محاذ آرائی نتیش رانے اور اویسی برادران کے درمیان جاری سیاسی کشیدگی کا حصہ سمجھی جا رہی ہے، جس میں رانے اکثر اکبرالدین اویسی کے ایک پرانے بیان کا حوالہ دیتے رہے ہیں۔سیاسی طور پر نتیش رانے مہاراشٹر میں مبینہ ’’لو جہاد‘‘ قانون، مدارس میں مراٹھی زبان کی لازمی تعلیم اور مسلم ووٹنگ کے حوالے سے ’’ووٹ جہاد‘‘ جیسی اصطلاحات کے حامی رہے ہیں۔ ان کے حالیہ بیان پر مہاراشٹر اسٹیٹ مائنارٹی کمیشن کے چیئرمین نے سخت اعتراض کرتے ہوئے اسے نفرت انگیز تقریر قرار دیا ہے۔ اس واقعے نے ریاست میں حساس انتخابی ماحول کے دوران فرقہ وارانہ کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔
