وزیرِ اعظم نے دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے درمیان مضبوط ہم آہنگی قرار دیا
گوا، 27 جنوری:۔ (ایجنسی) وزیر اعظم نریندر مودی نے منگل کو بھارت اور یورپی یونین کے حال ہی میں طے پانے والے تجارتی معاہدے کو ’’مدر آف آل ڈیلز‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ بھارت اور یورپ کے کروڑوں عوام کے لیے غیر معمولی مواقع فراہم کرے گا اور دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے درمیان مضبوط ہم آہنگی کی عکاسی کرتا ہے۔ گوا میں انڈیا انرجی ویک 2026 کے افتتاحی اجلاس سے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ یہ معاہدہ عالمی جی ڈی پی کے تقریباً 25 فیصد اور عالمی تجارت کے ایک تہائی حصے کی نمائندگی کرتا ہے، جو اس کی معاشی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔
معاشی اور مشترکہ اقدار
وزیر اعظم مودی نے اس معاہدے کو محض تجارتی معاہدہ قرار دینے کے بجائے مشترکہ اقدار کا مظہر بتایا۔ ان کے مطابق یہ معاہدہ نہ صرف تجارت کو فروغ دیتا ہے بلکہ جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کے لیے بھارت اور یورپ کے مشترکہ عزم کو بھی مضبوط بناتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے 1.4 ارب عوام اور یورپ کے مختلف ممالک میں بسنے والے لاکھوں افراد اس معاہدے سے براہِ راست مستفید ہوں گے۔
بھارت کی توانائی میں قیادت
انڈیا انرجی ویک کے دوران وزیر اعظم نے بھارت کے توانائی شعبے میں کردار پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت دنیا میں ریفائننگ صلاحیت کے لحاظ سے دوسرے نمبر پر ہے اور جلد ہی پہلے نمبر پر پہنچنے والا ہے۔ موجودہ ریفائننگ صلاحیت 260 ملین میٹرک ٹن سالانہ (MMTPA) ہے، جسے بڑھا کر 300 MMTPA تک لے جانے کی کوششیں جاری ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت دنیا کے بڑے پیٹرولیم مصنوعات برآمد کنندگان میں شامل ہے اور اس کی مصنوعات 150 سے زائد ممالک میں جاتی ہیں۔
انڈیا انرجی ویک 2026 اور عالمی مواقع
وزیر اعظم نے انرجی ویک 2026 کے اس نئے ایڈیشن میں تقریباً 150 ممالک کے نمائندوں کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ یہ ایونٹ توانائی کے تحفظ، سرمایہ کاری کے فروغ اور ڈی کاربنائزیشن کے راستوں کو آگے بڑھانے کے لیے بہترین پلیٹ فارم ہے۔ انہوں نے شرکاء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی صلاحیتیں اس شراکت داری کو مزید وسعت دینے میں معاون ثابت ہوں گی۔
عالمی اقتصادی پس منظر اور شراکت داری
یہ معاہدہ کئی برسوں کی گفت و شنید کے بعد طے پایا ہے اور ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی معیشت جغرافیائی سیاسی کشیدگی، توانائی کے بحران اور سپلائی چین کے مسائل سے دوچار ہے۔ اس معاہدے کو بھارت کی عالمی اقتصادی حیثیت مضبوط بنانے، برآمدات بڑھانے اور یورپ کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
