ممبئی ، 23 فروری (یو این آئی) مہاراشٹر ریاستی مقننہ کے بجٹ اجلاس کا آغاز پیر، 23 فروری 2026 کو ہوا جہاں گورنر آچاریہ دیوورت نے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ریاست کی معاشی پیش رفت کا خاکہ پیش کیا اور ترقی یافتہ مہاراشٹر کے عزم کا اعادہ کیا۔گورنر نے ورلڈ اکنامک فورم داووس میں ہوئے معاہدوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کے نتیجے میں ریاست میں 30 لاکھ کروڑ روپے کی ریکارڈ سرمایہ کاری متوقع ہے جس سے قومی جی ڈی پی میں مہاراشٹر کا حصہ 13 فی صد تک پہنچ گیا ہے اور براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری حاصل کرنے میں ریاست دوبارہ سرفہرست رہی ہے۔انہوں نے ہندوہردیہ سمراٹ بالاصاحب ٹھاکرے سمرُدھی مہامارگ کو ودھون تک توسیع کرنے کا اعلان کیا جس سے رابطہ نظام کو مزید مضبوطی ملے گی۔ اس کے ساتھ ہی نکسل متاثرہ ضلع گڑچرولی کو اسٹیل حب میں تبدیل کرنے اور ودربھ میں اسٹیل کاریڈور قائم کرنے کا منصوبہ بھی پیش کیا گیا۔دیہی علاقوں میں رابطہ بڑھانے کے لیے ‘مکھیہ منتری بلی راجا فارم روڈس، اسکیم پر مؤثر عمل درآمد جاری ہے جبکہ کسانوں کی آمدنی میں اضافہ کے لیے جدید ٹکنالوجی کے استعمال اور زرعی پیداوار کی منصوبہ بندی میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس پالیسی نافذ کرنے کی بات کہی گئی۔مہاراشٹر۔کرناٹک سرحدی تنازعہ پر گورنر نے کہا کہ حکومت سرحدی علاقوں کے مراٹھی بولنے والے شہریوں کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے اور اس مسئلہ کو قانونی طریقہ سے حل کیا جائے گا۔ سرحدی علاقوں کے عوام کے لیے مختلف فلاحی اسکیمیں نافذ کی جا رہی ہیں جبکہ پولیس اہلکاروں کے لیے خصوصی رہائشی اسکیم بھی شروع کی گئی ہے۔گورنر نے 2026-2030 کے لیے نئی صنعتی و خدماتی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس سے بڑے پیمانے پر روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔
