بنگلورو، 05 جنوری (یو این آئی) مرکزی وزیر ایچ ڈی کمار سوامی نے پیر کے روز بلاری واقعے کی مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) سے جانچ کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدرامیا پر تیکھا حملہ کیا اور دعویٰ کیا کہ وہ ریاست کے آخری کانگریسی وزیر اعلیٰ ہوں گے۔مسٹر کمار سوامی نے یہاں میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے بلاری میں ہونے والے تشدد کا ذمہ دار کرناٹک حکومت کو ٹھہرایا۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعے کی جڑ مہارشی والمیکی کے مجسمے کی تنصیب تھی اور اخباری رپورٹوں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ریاستی حکومت نے اس مقام پر کسی بھی مجسمے کی تنصیب کی اجازت نہیں دی تھی۔عدالتی احکامات اور ریاستی قوانین کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے پہلے ہی واضح حکم دیا ہے کہ اجازت کے بغیر کوئی مجسمہ نصب نہیں کیا جا سکتا اور کرناٹک حکومت نے بھی اس کے لیے پیشگی اجازت لازمی قرار دینے کا قانون بنایا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’بلاری واقعے کی جانچ سی بی آئی کو کرنی چاہیے کیونکہ اس تصادم کی اصل وجہ مجسمے کی تنصیب کا پروگرام تھا۔‘‘وزیر اعلیٰ سدارامیا سے سوال کرتے ہوئے کمار سوامی نے کہا کہ حکومت اس معاملے میں اپنی ذمہ داری سے بچ نہیں سکتی۔ انہوں نے پوچھا’’اگر حکومت نے 3 جنوری کو مجسمہ نصب کرنے کی اجازت دی تھی، تو جواب دینا حکومت کا کام ہے۔ اگر اجازت نہیں دی گئی تھی، تو پھر مجسمہ کس نے لگایا؟‘کمار سوامی نے زور دے کر کہا کہ مہارشی والمیکی سب کے لیے قابلِ احترام ہیں، یہ تنازع مجسمے کا نہیں بلکہ واقعات کے طریقٔہ کار کا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پروگرام کے بینرز لگتے ہی کشیدگی شروع ہوئی جو تشدد کی شکل اختیار کر گئی اور ایک کانگریس کارکن کا قتل ہو گیا۔ انہوں نے کہا، ’’حکومت اس واقعے کی ذمہ داری سے پیچھا نہیں چھڑا سکتی۔‘‘وزیر اعلیٰ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کمار سوامی نے کہا، ’’یہ یاد رکھیں اور لکھ کر رکھ لیں، سدرامیا کرناٹک میں کانگریس کے آخری وزیر اعلیٰ ہیں۔‘‘ انہوں نے برسراقتدار پارٹی پر انتظامیہ کو کمزور کرنے اور افسران کو ’غلام‘ بنانے کا الزام بھی لگایا۔قابلِ ذکر ہے کہ بلاری واقعے نے ریاست میں سیاسی درجہ حرارت بڑھا دیا ہے اور اپوزیشن جماعتیں حکومت پر مسلسل دباؤ ڈال رہی ہیں کہ وہ مجسمے کی تنصیب سے متعلق اپنی پوزیشن واضح کرے۔
