ہومNationalکشتواڑ تصادم: فوجی جوان شہید، تلاشی آپریشن دوسرے روز بھی جاری

کشتواڑ تصادم: فوجی جوان شہید، تلاشی آپریشن دوسرے روز بھی جاری

Facebook Messenger Twitter WhatsApp

دہشت گردوں نے فورسز پر اندھا دھند فائرنگ اور دستی بم سے حملہ کیا: 8 فوجی اہلکار زخمی

جموں،19جنوری(یو این آئی) کشتواڑ کے سنگھ پورہ جنگلی علاقے میں سیکورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے مابین ہونے والی شدید جھڑپ میں آٹھ فوجی اہلکار زخمی ہوئے جن میں سے ایک بہادر فوجی جوان اسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔ معلوم ہوا ہے کہ سیکورٹی فورسز نے متعدد جنگلی علاقوں کو محاصرے میں لے کر ممکنہ فرار کے تمام راستوں پر سخت پہرے بٹھا دیے ہیں۔سرکاری ذرائع کے مطابق جھڑپ اتوار کے روز اُس وقت شروع ہوئی جب فوج اور پولیس کی مشترکہ ٹیم نے سونّار گاؤں کے پہاڑی علاقے میں دہشت گردوں کی موجودگی کی مخصوص اطلاع ملنے کے بعد تلاشی کارروائی شروع کی۔ اسی دوران گھات لگا کر بیٹھے دہشت گردوں نے فورسز پر اندھا دھند فائرنگ اور دستی بم سے حملہ کیا جس کے نتیجے میں آٹھ فوجی اہلکار زخمی ہوگئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر ہیلی کاپٹر کے ذریعے اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم پیر کی صبح پیرا جوان حوالدار گجندر سنگھ دورانِ علاج دم توڑ بیٹھا۔حوالدار گجندر سنگھ کی شہادت پر وائٹ نائٹ کور نے ایک خصوصی بیان میں انہیں اعلیٰ خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ انتہائی بہادر، فرض شناس اور وطن کے لیے بے مثال قربانی دینے والے اہلکار تھے۔ بیان میں کہا گیا، ’ہم حوالدار گجندر سنگھ کے جرات مندانہ حوصلے اور وطن کے لیے ان کی لازوال قربانی کو سلام پیش کرتے ہیں اور اس دکھ کی گھڑی میں ان کے اہلِ خانہ کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘فوج، پولیس اور پیرا ملٹری فورسز کی کئی ٹیمیں علاقے میں تلاشی کارروائی میں مصروف ہیں جبکہ ڈرون، جدید نگرانی والے آلات اور کھوجی کتوں کی مدد بھی لی جا رہی ہے تاکہ کسی بھی سمت سے ممکنہ فرار کے امکانات کو ناکام بنایا جاسکے۔ گھنے جنگلات، کھڑی چوٹیاں اور خراب موسم سرچ آپریشن میں رکاوٹ بن رہے ہیں، تاہم فورسز نے پورے علاقے کو سخت محاصرے میں لے رکھا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ 2 سے 3 دہشت گردوں کا گروپ علاقے میں محصور ہے، جو ممکنہ طور پر پاکستان میں سرگرم جیش محمد سے منسلک بتایا جاتا ہے۔ سرچ آپریشن کو ’آپریشن تراشی-ون‘ کا نام دیا گیا ہے اور فورسز نے اتوار شام کو اندھیرے کے باعث کارروائی روک دی تھی، تاہم پیر کی صبح پہلی روشنی کے ساتھ ہی آپریشن دوبارہ شروع کر دیا گیا۔فوج کے مطابق اضافی دستے علاقے میں بھیج دیے گئے ہیں تاکہ گھیرے کو مزید مضبوط کیا جا سکے اور دہشت گردوں کو کسی بھی صورت نکلنے کا موقع نہ مل سکے۔ ایک افسر نے بتایا، ’چیلنجنگ جغرافیہ اور گھنے جنگلات کے باوجود اہلکار پوری پیشہ ورانہ مہارت سے کارروائی میں مصروف ہیں۔ دشمن کی فائرنگ میں زخمی ہونے کے باوجود فورسز کی حوصلہ افزائی کم نہیں ہوئی ہے۔‘یہ رواں برس جموں خطے میں ہونے والی تیسری بڑی جھڑپ ہے۔ اس سے قبل 7 اور 13 جنوری کو کٹھوعہ کے کہوگ اور نجوٹ جنگلات میں بھی ایسے ہی دو الگ الگ انکاؤنٹر ہوئے تھے جن میں متعدد دہشت گرد مارے گئے تھے۔ گزشتہ برس دسمبر میں ادھم پور کے مجالٹا علاقے میں ایک پولیس افسر بھی جھڑپ کے دوران شہید ہوا تھا جبکہ دہشت گرد موقع سے فرار ہونے میں کامیاب رہے تھے۔حکام نے بتایا ہے کہ یوم جمہوریہ کے پیش نظر خطے میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے اور خفیہ ایجنسیوں نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں بیٹھے شدت پسند عناصر مزید دہشت گردوں کو دراندازی کے ذریعے بھیجنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اسی پس منظر میں فوج اور پولیس نے جنگلی علاقوں میں بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کو ابتدا ہی میں ناکام بنایا جا سکے۔آخری اطلاعات ملنے تک سرچ آپریشن پوری شدت کے ساتھ جاری تھا اور فورسز نے پورے علاقے کا محاصرہ مزید تنگ کر دیا ہے۔

Jadeed Bharathttps://jadeedbharat.com
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.
Exit mobile version