ہومNationalجے شنکر نے کہا کہ ایرانی جنگی جہاز کو کوچین میں رکنے...

جے شنکر نے کہا کہ ایرانی جنگی جہاز کو کوچین میں رکنے کی اجازت دینا انسانی فیصلہ ہے، اس میں کچھ غلط نہیں

Facebook Messenger Twitter WhatsApp

نئی دہلی، 07 مارچ (یواین آئی) وزیرِ خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر نے ایرانی جنگی جہاز اریس لاون کو کوچین بندرگاہ پر رکنے کی اجازت دینے کے ہندوستان کے فیصلے پر اٹھنے والے سوالات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ قانونی پیچیدگیوں سے بالاتر انسانی بنیادوں پر کیا گیا ہے اور ان کی نظر میں یہ بالکل درست ہے ڈاکٹر جے شنکر نے ہفتہ کو یہاں رائے سینا ڈائیلاگ کے تیسرے اور آخری دن “بحر ہند کا مستقبل” موضوع پر پینل مباحثے میں سوالوں کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی جنگی جہاز کو کوچین بندرگاہ پر رکنے کی اجازت خصوصی حالات اور انسانی بنیادوں پر دی گئی ہے اور اسے قانونی باریکیوں میں نہیں پرکھنا چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ ایران کے تین جنگی جہاز اریس دینا، اریس لاون اور اریس بوشہر گزشتہ ماہ وشاکھاپٹنم میں بحریہ کے بین الاقوامی بیڑا جائزہ تقریب اور “ملن” مشق میں شامل ہونے آئے تھے اور بعد میں بحر ہند میں موجود تھے۔ ہندوستان کا یہ بیان ایران کے ایک جنگی جہاز اریس دینا پر امریکی بحریہ کے حملے کے دو دن بعد سامنے آیا ہے۔ وزیرِ خارجہ نے کہاکہ “جہاز مشکلات میں تھا۔ انسانی نقطۂ نظر سے ان کی مدد کرنا درست تھا۔ ہم نے معاملے کو سادہ اور انسانی بنیادوں پر دیکھا، نہ کہ صرف قانونی مسائل کے تناظر میں۔” انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی طرح سری لنکا نے بھی ایرانی جنگی جہاز کو ڈاک کرنے کی اجازت دی ہے۔ جے شنکر نے وضاحت کی کہ جہاز اس وقت بندرگاہ کے قریب ترین پانیوں میں آنا چاہتا تھا اور رپورٹس کے مطابق انہیں مسائل پیش آ رہے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب یہ جنگی جہاز یہاں آئے تھے تو صورتحال بالکل مختلف تھی لیکن حالات تیزی سے اور آزادانہ طور پر بدل رہے تھے اور وہ غلط وقت میں یہاں پھنس گئے۔ بحر ہند میں ہندوستان کے “نیٹ سکیورٹی پرووائیڈر” کردار پر سوال کے جواب میں وزیرِ خارجہ نے کہا کہ اس وقت سوشل میڈیا پر اس موضوع پر بہت بحث ہو رہی ہے، اور سوشل میڈیا کی فطرت ہی ایسی ہے کہ وہاں سخت، جھکاؤ والے اور بعض اوقات انتہا پسندانہ خیالات سامنے آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بحر ہند صرف اس سے جڑے ممالک تک محدود نہیں ہے۔ “بحر ہند کی حقیقت کو سمجھیں۔ ڈیاگو گارسیا پچھلے پانچ دہائیوں سے یہاں موجود ہے۔ جیبوتی میں غیر ملکی فوجی دستوں کی تعیناتی اس صدی کے پہلے عشرے میں ہوئی تھی۔ اسی دوران ہمبنٹوٹا بھی بنا۔” انہوں نے کہا کہ اس صدی کے پہلے عشرے سے ہی بحر ہند میں غیر ملکی افواج کی موجودگی رہی ہے، اس لیے یہ ماننا کہ بحر ہند صرف ان ممالک تک محدود ہے جو اس سے جڑے ہیں، درست نہیں ہے۔

Jadeed Bharathttps://jadeedbharat.com
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.