تمل ناڈو کے کلپکم میں واقع پروٹوٹائپ فاسٹ بریڈر ری ایکٹر نے پہلی بار’کریٹیکل‘ مرحلہ حاصل کر لیا
نئی دہلی، 07 اپریل (یو این آئی) تمل ناڈو کے کلپکم میں واقع 500 میگاواٹ کے پروٹوٹائپ فاسٹ بریڈر ری ایکٹر (پی ایف بی آر) نے پیر کی رات کامیابی کے ساتھ پہلا ‘کریٹیکل، مرحلہ (کنٹرولڈ فیژن چین ری ایکشن کا آغاز) حاصل کر کے ہندوستان کے ایٹمی توانائی پروگرام کے لیے ایک تاریخی سنگ میل عبور کر لیا ہے۔ یہ قدم ملک کی طویل مدتی توانائی سکیورٹی اور مقامی ایٹمی ٹیکنالوجی کی صلاحیتوں کو آگے بڑھانے کی سمت میں ایک اہم پیش رفت ہے۔سرکاری معلومات کے مطابق، یہ اہم کامیابی اٹامک انرجی ریگولیٹری بورڈ (اے ای آر بی ) کی جانب سے پلانٹ کے حفاظتی نظام کے تفصیلی جائزے اور منظوری کے بعد حاصل ہوئی۔ اس موقع پر محکمہ ایٹمی توانائی کے سکریٹری اور اے ای سی کے چیئرمین ڈاکٹر اجیت کمار موہنتی، آئی جی سی اے آر کے ڈائریکٹر شری کمار جی پلئی، بھاوینی کے انچارج سی ایم ڈی الو اننت اور بھاوینی کے سابق سی ایم ڈی کے وی سریش کمار موجود تھے۔پی ایف بی آر کی ٹیکنالوجی اور ڈیزائن مکمل طور پر مقامی سطح پر اندرا گاندھی سینٹر فار اٹامک ریسرچ (آئی جی سی اے آر) نے تیار کیا ہے، جبکہ اس کی تعمیر اور آپریشن بھارتیہ نابھیکیہ ودیوت نگم لمیٹڈ (بھاونی) کے سپرد ہے، جو محکمہ ایٹمی توانائی کے تحت ایک سرکاری ادارہ ہے۔فاسٹ بریڈر ری ایکٹر ہندوستان کی طویل مدتی ایٹمی حکمت عملی کا ایک اہم حصہ ہے۔ روایتی تھرمل ری ایکٹرز کے برعکس، پی ایف بی آر یورینیم-پلوٹونیم مکسڈ آکسائیڈ ایندھن کا استعمال کرتا ہے۔پی ایف بی آر کا کور یورینیم-238 کی تہہ سے گھرا ہوتا ہے۔ تیز رفتار نیوٹران یورینیم-238 کو پلوٹونیم-239 میں تبدیل کر دیتے ہیں، جس سے یہ ری ایکٹر اپنی ضرورت سے زیادہ ایندھن پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس ری ایکٹر کو مستقبل میں تھوریم-232 کے استعمال کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ عملِ تبديل کے ذریعے تھوریم-232 یورینیم-233 میں بدل جائے گا، جو ہندوستان کے ایٹمی توانائی پروگرام کے تیسرے مرحلے کے لیے ایندھن فراہم کرے گا۔یہ منفرد صلاحیت ایٹمی ایندھن کے وسائل کے استعمال کو بہت حد تک بڑھاتی ہے اور ملک کو اپنے محدود یورینیم کے ذخائر سے کہیں زیادہ توانائی حاصل کرنے کے قابل بناتی ہے، ساتھ ہی مستقبل میں تھوریم کے بڑے پیمانے پر استعمال کی راہ بھی ہموار کرتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق، 500 میگاواٹ صلاحیت کا یہ ری ایکٹر مکمل طور پر بھارت میں ڈیزائن اور تیار کیا گیا ہے اور اس کی کامیابی ملک کی تکنیکی خود کفالت اور سائنسی صلاحیتوں کی عکاسی کرتی ہے۔ ماہرین کے مطابق “کریٹیکلٹی” وہ مرحلہ ہوتا ہے جب کسی نیوکلیئر ری ایکٹر میں خودکار اور مسلسل ایٹمی ردِعمل قائم ہو جاتا ہے، جو اس کے آپریشن کے لیے ایک بنیادی سنگِ میل سمجھا جاتا ہے۔ یہ ری ایکٹر بھارت کے تین مرحلوں پر مبنی جوہری پروگرام کے دوسرے مرحلے کا اہم حصہ ہے، جس کا مقصد ایسے ری ایکٹرز تیار کرنا ہے جو ایندھن استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ مزید ایندھن بھی پیدا کریں۔ خصوصی طور پر فاسٹ بریڈر ری ایکٹرز کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کیونکہ یہ پلٹونیم کو بطور ایندھن استعمال کرتے ہوئے یورینیم کو مزید قابلِ استعمال ایندھن میں تبدیل کر سکتے ہیں، جس سے توانائی کی طویل مدتی ضروریات پوری کرنے میں مدد ملتی ہے۔ حکام کے مطابق، یہ کامیابی بھارت کو ان چند ممالک کی صف میں شامل کرتی ہے جو اس سطح کی جدید جوہری ٹیکنالوجی رکھتے ہیں، جبکہ مکمل آپریشن کے بعد بھارت دنیا کا دوسرا ملک بن سکتا ہے جس کے پاس کمرشل فاسٹ بریڈر ری ایکٹر ہوگا۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے اس پیش رفت کو “بھارت کے جوہری سفر کا ایک فیصلہ کن لمحہ” قرار دیتے ہوئے سائنسدانوں اور انجینئرز کو مبارکباد دی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ کامیابی نہ صرف توانائی کے شعبے میں خود انحصاری کو مضبوط کرے گی بلکہ بھارت کے وسیع تھوریم ذخائر کو مستقبل میں استعمال کرنے کی راہ بھی ہموار کرے گی، جو ملک کی طویل مدتی توانائی حکمت عملی کا اہم حصہ ہے۔
