ایل پی جی کے متبادل ذرائع کی تلاش، ارجنٹینا، امریکہ اور ایران سے سپلائی شروع
نئی دہلی۔ 28؍ مارچ۔ ایم این این۔مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور سپلائی میں خلل کے باعث بھارت نے ایل پی جی (LPG) کے لیے اپنے ذرائع کو متنوع بناتے ہوئے ارجنٹینا، امریکہ اور ایران جیسے ممالک سے درآمدات بڑھانا شروع کر دی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، بھارت طویل عرصے سے اپنی ایل پی جی ضروریات کے لیے خلیجی ممالک پر انحصار کرتا رہا ہے، تاہم حالیہ جنگ اور آبنائے ہرمز میں رکاوٹوں نے سپلائی چین کو شدید متاثر کیا ہے۔ اس صورتحال نے نئی دہلی کو فوری طور پر متبادل ذرائع تلاش کرنے پر مجبور کر دیا۔ اسی تناظر میں ارجنٹینا ایک اہم نئے سپلائر کے طور پر سامنے آیا ہے، جہاں سے 2026 کے ابتدائی مہینوں میں ایل پی جی کی ترسیل میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ماہرین کے مطابق، یہ پیش رفت اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ چند سال قبل تک ارجنٹینا بھارت کے لیے بڑا توانائی شراکت دار نہیں تھا۔ امریکہ بھی اب بھارت کے لیے ایک بڑا متبادل سپلائر بنتا جا رہا ہے، جبکہ یورپ اور دیگر خطوں سے بھی ایل پی جی کارگو بھارت پہنچ رہے ہیں تاکہ خلیجی سپلائی میں کمی کو پورا کیا جا سکے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ بھارت نے حال ہی میں کئی سال بعد ایران سے بھی ایل پی جی کی خریداری دوبارہ شروع کی ہے، جو اس وقت ممکن ہوئی جب امریکہ نے عارضی طور پر پابندیوں میں نرمی دی۔ یہ اقدام بھارت کی توانائی حکمت عملی میں ایک اہم تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق، یہ حکمت عملی صرف عارضی حل نہیں بلکہ طویل مدتی پالیسی کا حصہ بن سکتی ہے، جس کا مقصد کسی ایک خطے پر انحصار کم کرنا اور توانائی کے شعبے میں لچک پیدا کرنا ہے۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بھارت، جو دنیا کے بڑے ایل پی جی درآمد کنندگان میں شامل ہے، اپنی توانائی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے تیزی سے نئے راستے اختیار کر رہا ہے اور عالمی سطح پر بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاست کے مطابق اپنی حکمت عملی کو ڈھال رہا ہے۔
