میں عالمی سطح پر تیسرے نمبر پرپہنچا
غیر جیواشم ایندھن سے بجلی کی پیداوار میں نمایاں اضافہ، 2030 کے اہداف کی جانب تیز پیش رفت
نئی دہلی، 9 اپریل (ایم این این):مرکزی وزیر برائے نئی و قابلِ تجدید توانائی اور امورِ صارفین، خوراک و عوامی تقسیم، پرہلاد جوشی نے بدھ کے روز کہا کہ سال 2026 کے قابلِ تجدید توانائی کے اعداد و شمار کے مطابق بھارت نے برازیل کو پیچھے چھوڑتے ہوئے عالمی سطح پر تیسرا مقام حاصل کر لیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ مالی سال 2025-26 (مارچ 2026 تک) کے دوران بھارت کی مجموعی بجلی پیداوار 1,845.921 بلین یونٹس تک پہنچ گئی۔ اس میں غیر جیواشم ایندھن سے حاصل ہونے والی بجلی کا حصہ 538.97 بلین یونٹس رہا، جو کل پیداوار کا 29.2 فیصد ہے۔جوشی کے مطابق بھارت نے جون 2025 میں ایک اہم سنگ میل عبور کرتے ہوئے اپنی مجموعی نصب شدہ برقی صلاحیت کا 50 فیصد غیر جیواشم ایندھن کے ذرائع سے حاصل کر لیا، جو پیرس معاہدے کے تحت 2030 کے ہدف سے پانچ سال پہلے حاصل کیا گیا۔پریس ریلیز میں مزید کہا گیا کہ کوپ 26 کے موقع پر وزیر اعظم نریندر مودی کے اعلان کے مطابق، نئی و قابلِ تجدید توانائی کی وزارت 2030 تک غیر جیواشم ذرائع سے 500 گیگا واٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہے۔وزارت کے مطابق قومی گرین ہائیڈروجن مشن کو کابینہ نے 2029-30 تک 19,744 کروڑ روپے کے ابتدائی بجٹ کے ساتھ منظوری دی ہے۔ اس مشن کا ہدف 2030 تک کم از کم 5 ملین میٹرک ٹن سالانہ گرین ہائیڈروجن کی پیداوار ہے۔ اس کے علاوہ، اس مشن کے تحت 125 گیگا واٹ اضافی قابلِ تجدید توانائی کی صلاحیت متوقع ہے۔ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے شعبے میں بھی نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ مالی سال 2025-26 کے دوران 6.05 گیگا واٹ کی ریکارڈ سالانہ صلاحیت کا اضافہ کیا گیا، جس کے بعد مجموعی نصب شدہ ونڈ پاور صلاحیت 56 گیگا واٹ سے تجاوز کر گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی بھارت عالمی سطح پر ونڈ ٹربائن کی مجموعی نصب شدہ صلاحیت کے لحاظ سے چوتھے نمبر پر آ گیا ہے۔واضح رہے کہ “جنریشن بیسڈ انسینٹیو” اسکیم نئی و قابلِ تجدید توانائی کی وزارت کی ایک اہم پالیسی ہے، جس کا مقصد ہوا اور شمسی توانائی کو فروغ دینا ہے۔ اس اسکیم کے تحت گرڈ میں فراہم کی جانے والی بجلی کے ہر یونٹ پر مالی مراعات دی جاتی ہیں۔
