نئی دہلی۔26؍ مارچ۔ ایم این این۔ عالمی توانائی بحران اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے درمیان بھارت نے اپریل کی ترسیل کے لیے تقریباً 6 کروڑ (60 ملین) بیرل روسی خام تیل خرید لیا ہے، جسے توانائی تحفظ کے لیے ایک اہم حکمت عملی قرار دیا جا رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق، بھارتی ریفائنریز نے یہ کارگو برینٹ خام تیل کے مقابلے میں 5 سے 15 ڈالر فی بیرل اضافی قیمت پر حاصل کیے، جو عالمی سپلائی میں کمی اور بڑھتی ہوئی طلب کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ خریداری ایسے وقت میں کی گئی ہے جب آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی کے باعث تیل کی عالمی سپلائی متاثر ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں بھارت نے اپنی توانائی ضروریات کو یقینی بنانے کے لیے متبادل ذرائع پر انحصار بڑھا دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، یہ حجم رواں ماہ کی خریداری کے برابر ہے لیکن فروری کے مقابلے میں تقریباً دو گنا زیادہ ہے، جو بھارت کی جانب سے تیل کی درآمدات میں تیزی سے اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔ اس خریداری میں اضافہ امریکی پابندیوں میں نرمی (ویور) کے بعد ممکن ہوا، جس کے تحت پہلے سے لوڈ شدہ روسی تیل کے کارگو خریدنے کی اجازت دی گئی تاکہ عالمی سپلائی میں کمی کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔ ماہرین کے مطابق، یہ اقدام بھارت کی “لچکدار توانائی حکمت عملی” کا حصہ ہے، جس کے تحت وہ روس کے ساتھ ساتھ وینزویلا جیسے دیگر ذرائع سے بھی تیل درآمد کر کے سپلائی کو متنوع بنا رہا ہے، تاکہ عالمی غیر یقینی صورتحال کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔
