ہندوستان کی دفاعی برآمدات38,424 کروڑ روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں: راج ناتھ سنگھ
ترواننت پورم۔ 2؍ اپریل۔ ایم این این۔ و زیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے جمعرات کو اعلان کیا کہ حکومت ہند کا مقصد ہندوستانی بحریہ کو 2047 تک دنیا کی سب سے طاقتور فورس میں تبدیل کرنا ہے۔ ترواننت پورم میں ویر سینک سمّان سے خطاب کرتے ہوئے، جو بہادر سابق فوجیوں کو خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے، وزیر دفاع نے اعلان کیا کہ ہندوستان عالمی جہاز سازی کے شعبے میں نمایاں پیشرفت کر رہا ہے۔ انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ جہاں ملک جہاز سازی کے جدید طریقوں کو اپنا رہا ہے، وہیں قدیم ہندوستانی سمندری تکنیک کو بھی استعمال کر رہا ہے۔ اس پیشرفت پر زور دیتے ہوئے، انہوں نے نوٹ کیا کہ کوچین میں دیسی ساختہ طیارہ بردار بحری جہاز کی تکمیل ہندوستان کو ایسی اعلیٰ صلاحیتوں کے حامل ممالک کے منتخب گروپ میں شامل کرتی ہے۔”ہندوستان کے بحری جہاز، کیرالہ سے ہوتے ہوئے، ایک زمانے میں رومی سلطنت سے کمبوڈیا اور انڈونیشیا تک تجارت کرتے تھے۔ یہ تبادلہ محض تجارتی نہیں تھا؛ یہ ایک ثقافتی تبادلہ بھی تھا۔ کیرالہ نے تاریخی طور پر تجارت کے لیے ایک بڑے عالمی مرکز کے طور پر کام کیا ہے… جب کہ بھارت جہاز سازی کے جدید طریقے اپنا رہا ہے، یہ ہندوستانی تعمیراتی ٹیکنالوجی کو بھی استعمال کر رہا ہے۔ بھارت عالمی جہاز سازی کے شعبے میں اہم پیشرفت کر رہا ہے…کوچین میں ایک مقامی طور پر بنایا گیا طیارہ بردار بحری جہاز مکمل ہوا ہے، دنیا میں صرف چند ممالک کے پاس ایسی صلاحیت ہے…2047 تک، ہم ہندوستانی بحریہ کو دنیا کی سب سے طاقتور بحری قوت میں تبدیل کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔جہاز سازی میں پیشرفت کے علاوہ، وزیر دفاع نے ہندوستان کی دفاعی حکمت عملی میں ایک اہم تبدیلی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب کہ ملک پہلے ہتھیاروں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے درآمدات پر انحصار کرتا تھا، اب یہ ایک نمایاں برآمد کنندہ بن گیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دفاعی برآمدات میں گزشتہ سال کے مقابلے میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کی کل کل رقم 38,500 کروڑ روپے ہے۔ دفاعی برآمدات مالی سال26-2025 میں 38,424 کروڑ روپے کے ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی ہے، جو پچھلے مالی سال کی 23,622 کروڑ روپے کی رقم کے مقابلے میں 14,802 کروڑ روپے (62.66فیصد( کے شاندار اضافے کا عندیہ ہے۔ اس تاریخی سنگ میل میں، دفاعی عوامی شعبے کی کمپنیوں(ڈی پی ایس یوز) اور نجی شعبے کی بالترتیب 54.84فیصد اور 45.16فیصد کی شراکت ہے۔ بھارتی دفاعی صنعت کی یہ کامیابی وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے وژن کے مطابق ہے، جو بھارت کو دنیا کے اعلیٰ دفاعی برآمد کنندگان میں شامل کرنے کی کوشش ہے۔راج ناتھ سنگھ نے محکمہ دفاعی پیداوار، بھارتی دفاعی برآمد کنندگان اور دیگر تمام شراکت داروں کی اس شاندار کارکردگی کو سراہا اور اس بات پر زور دیا کہ بھارت دفاعی سازوسامان کی عالمی مینوفیکچرنگ ہب بننے کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ ایک پوسٹ میں ‘ایکس’ پر، وزیر دفاع نے کہا کہ وزیر اعظم مودی کی متاثر کن قیادت میں بھارت ایک شاندار دفاعی برآمدات کی کامیابی کی داستان رقم کر رہا ہے۔ڈی پی ایس یوز کی برآمدات پچھلے برس کے مقابلے میں 151 فیصد بڑھیں، جبکہ پرائیویٹ کمپنیوں نے 14 فیصد اضافے کے ساتھ اپنی مضبوط موجودگی کا مظاہرہ کیا۔ تعاون میں قدر کے لحاظ سے پرائیویٹ شعبے نے دفاعی برآمدات میں 17,353 کروڑ روپے جبکہ ڈی پی ایس یوز نے 21,071 کروڑ روپے کاتعاون کیا۔ پچھلے مالی سال میں ان کے متعلقہ اعداد و شمار بالترتیب 15,233 کروڑ روپے اور 8,389 کروڑ روپے تھے۔یہ ریکارڈاعلیٰ اعداد و شمار پچھلے پانچ برسوں میں تقریباً تین گنا اضافے کا عندیہ دیتے ہیں۔اس تیز رفتار اضافہ سے بھارتی ساختہ دفاعی مصنوعات کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی قبولیت اور اس شعبے کی بین الاقوامی سپلائی چینز میں بڑھتی ہوئی شمولیت نمایاں ہوتی ہے۔ صرف سسٹمز/سب سسٹمز کے لیے ایک کامیاب عالمی شراکت دار ہونے کے علاوہ، بھارت مالی سال 26-2025 تک 80 سے زائد ممالک کو دفاعی سازوسامان برآمد کر رہا ہے۔ برآمد کنندگان کی تعداد پچھلے مالی سال کے 128 سے بڑھ کر 145 تک پہنچ گئی، جو 13.3فیصد کا اضافہ ہے۔حکومت کی کاروبار کرنے میں آسانی اور دفاعی برآمد کنندگان کی سہولت کے لیے جاری کوششوں نے ایک کارکردگی پر مبنی اور عالمی معیار کی دفاعی صنعت کے لیے راہ ہموار کی ہے۔ دفاعی برآمد کنندگان کی اس ترقیاتی راہ میں مدد کے لیے، محکمہ دفاعی پیداوار نے ایک نئے آن لائن پورٹل کے ساتھ دفاعی برآمدات کے ضابطہ کار کو منظم کیاہے اور اجازت ناموں کے لیے معیاری کام کاج کےطریقہ کار کو آسان بنایاہے۔
