ہومNationalگائے کے گوبر اور پیشاب سے کینسر کے علاج کے لیے ریسرچ...

گائے کے گوبر اور پیشاب سے کینسر کے علاج کے لیے ریسرچ کے نام پر 3.5کروڑ روپے کا گھوٹالہ، افسران نے کی ’عیش‘

Facebook Messenger Twitter WhatsApp

جبل پور، 12 جنوری:۔ (ایجنسی)جبل پور سے ایک ایسا گھپلا سامنے آیا ہے جس نے مدھیہ پردیش کی یونیورسٹیوں میں جاری مبینہ بدعنوانیوں کو بے نقاب کیا ہے۔ الزام ہے کہ سرکاری ریسرچ اور تربیت کے نام پر کروڑوں روپے خرچ ہوئے لیکن اس کا فائدہ محققین یا کسانوں تک نہیں پہنچا۔ الزام یہ بھی ہے کہ تقریباً 3.5 کروڑ روپے کی رقم سے ذمہ دار افسران عیش کرتے رہے۔

’آج تک‘ کی خبر کے مطابق مدھیہ پردیش کے جبل پور میں واقع ناناجی دیشمکھ ویٹرنری سائنس یونیورسٹی ان دنوں ایک بڑے گھپلے کو لے کر سرخیوں میں ہے۔ گائے کے گوبر اور پیشاب کے استعمال سے کینسر جیسی سنگین بیماریوں پر ریسرچ کے نام پر ملنے والے 3.5 کروڑ روپے کا ایک بڑا حصہ مبینہ طور پرغلط کاموں پر خرچ کردیا گیا۔ جیسے ہی معاملے کی جانچ شروع ہوئی، کئی چونکا نے والے انکشافات سامنے آئے۔
خبرکے مطابق 2011 میں نیشنل ایگریکلچر سائنس اسکیم کے تحت جبل پور کی ناناجی دیشمکھ ویٹرنری یونیورسٹی نے پنچ گویہ کو فروغ دینے اور گائے کے گوبر، پیشاب اور دودھ سے کینسر جیسی باماریوں پر ریسرچ کے لئے حکومت سے 8 کروڑ 74 لاکھ روپئے کی مانگ کی گئی تھی۔ حکومت نے اس کے لیے 3 کروڑ 50 لاکھ روپئے منظورکئے۔ اجس رقم سے ریسرچ پنچ گویہ کی تشہراورکسانوں کو ٹریننگ دی جانا تھی لیکن زمینی حقیقت اس سے بالکل مختلف نکلی۔ نہ تو کوئی ٹھوس ریسرچ ہوئی اور نہ ہی کسانوں کو مطلوبہ تربیت دی گئی۔ اس کے برعکس افسران کے ذریعہ اس فنڈ کے غلط استعمال کے الزامات سامنے آئے۔
جبل پور کے ایس ڈی ایم رگھویر سنگھ ماروی نے بتایا کہ تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ 2011 سے 2018 کے درمیان حکومت سے ملے 3.5 کروڑ روپے سے زیادہ رقم کا غلط استعمال کیا گیا۔ ریسرچ فنڈ سے مہنگی گاڑیاں اور دورے کئے گئے جبکہ اس منصوبے میں اس کا کوئی انتظام نہیں تھا۔ کئی اہم دستاویزات یا تو تباہ کر دیئے گئیے یا جان بوجھ کر تفتیشی ٹیم کو فراہم نہیں کئے گئے۔
جانچ کے دوران اس لیب کا بھی معائنہ کیا گیا جہاں پنچ گویہ اسکیم کے تحت مشینیں رکھی گئی تھیں اور گائے کے گوبر سے مختلف مصنوعات تیار کئے جانے کا دعویٰ کیا گیا تھا لیکن لیب کی حالت کسی کھنڈر جیسی نظرآئی۔ لاکھوں روپے کی مہنگی مشینوں کے نام پرصرف صرف پھولوں کے گملے اور دیئے بنانے کی کچھ عام مشینیں ہی دکھائی گئیں۔
تحقیقات میں سامنے آیا کہ ایک کروڑ روپئے گوبر، گائے کاپیشاب، خام مال اور مشینوں کی خرید میں خرچ دکھائے گئے۔ جبکہ ان مشینوں کی بازار قیمت صرف 15 سے 20 لاکھ روپئے بتائی جارہی ہے۔ ریسرچ کے نام پر گوا سمیت دیگر شہروں کے ہوائی سفر کئے گئے۔ تقریباً 7 لاکھ 38 ہزار روپئے کی ایک کار بھی خریدی گئی۔ 2.5 لاکھ روپئے پٹرول، ڈیزل پر خرچ کئے گئے۔ گاڑی مینٹننس پر 2 لاکھ روپئے خرچ کئے گئے۔ ڈرائیوروں کی تنخواہ پر 2 لاکھ 22 ہزارروپئے خرچ کردیئے گئے۔ 3 لاکھ 50 ہزار روپئے مزدوروں کو ادائیگی کے طور پر دکھائے گئے۔ تقریباً 15 لاکھ روپئے کے ٹیبل اور الیکٹرانک سامان خریدے گئے۔
حالانکہ تحقیقاتی رپورٹ آنے کے باوجود یونیورسٹی انتظامیہ بدعنوانی کے الزامات کو یکسر مسترد کر رہی ہے۔ جب رجسٹرار مندیپ شرما سے اس رپورٹ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے صاف کہا کہ یونیورسٹی میں کسی بھی طرح کی مالی بے ضابطگی نہیں ہوئی ہے۔ جانچ کمیٹی نے جو ریکارڈ مانگے تھے وہ انہیں فراہم کردیئے گئے ہیں اور فی الحال انتظامیہ کی رپورٹ کا انتظار ہے۔

Jadeed Bharathttps://jadeedbharat.com
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.
Exit mobile version