نئی دہلی، 16 مارچ (یواین آئی) راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے رہنما ملکارجن کھڑگے نے مغربی ایشیا کے بحران کے باعث ملک میں رسوئی گیس سلنڈر کی فراہمی متاثر ہونے کا مسئلہ پیر کو ایوان میں اٹھایا، جس پر ایوان کے رہنما جگت پرکاش نڈا نے یہ کہتے ہوئے اعتراض کیا کہ کانگریس مصیبت کے وقت بھی سیاست کر کے عوام کو بھڑکا رہی ہے مسٹر کھڑگے نے وقفۂ صفر کے دوران یہ مسئلہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ ملک میں رسوئی گیس سلنڈر کی فراہمی متاثر ہونے کے سبب افراتفری مچی ہوئی ہے اور اس سے خاص طور پر غریب، متوسط طبقہ اور چھوٹے ریستوران متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اپنی ضرورت کی 60 فیصد رسوئی گیس درآمد کرتا ہے اور اس میں سے بھی 90 فیصد ہرمز آبنائے کے راستے آتی ہے۔انہوں نے کہا کہ فراہمی متاثر ہونے سے کمیونٹی کچن بند کرنے پڑ رہے ہیں اور سلنڈر کی قیمت بھی بڑھ گئی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب حکومت مغربی ایشیا بحران کے پیش نظر وہاں رہنے والے ہندوستانیوں کے لیے مشورہ جاری کر رہی تھی تو رسوئی گیس کی فراہمی کے لیے متبادل انتظام کیوں نہیں کیا گیا اور فراہمی کیوں نہیں بڑھائی گئی۔ایوان کے رہنما مسٹر نڈا نے کہا کہ یہ وقفۂ صفر ہے اور اس میں ہر رکن کو تین منٹ کا وقت اپنی بات کہنے کے لیے دیا جاتا ہے لیکن مسٹر کھڑگے اپوزیشن لیڈر ہونے کے باوجود قواعد کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔صدرِ ایوان کی جانب سے مسٹر کھڑگے کو اضافی وقت دیے جانے کے باوجود ان کے بولتے رہنے پر مسٹر نڈا نے کہا کہ یہ عالمی بحران کا وقت ہے اور اس میں ہندوستان کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کانگریس مصیبت کے وقت بھی سیاست کرنے سے باز نہیں آ رہی۔ انہوں نے کہا کہ پٹرولیم وزیر ہردیپ سنگھ پوری نے ایوان میں پوری صورتحال کی وضاحت کی ہے لیکن کانگریس کے ارکان نے اس وقت ان کی بات نہیں سنی۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس ملک میں پُرامن صورتحال کو بھڑکا کر انتشار پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو انتہائی قابلِ مذمت ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ کانگریس کا ایک رہنما سلنڈر کی ذخیرہ اندوزی کے معاملے میں بھی پکڑا گیا ہے۔اس دوران حکومت اور اپوزیشن دونوں کے ارکان زور شور سے ایک دوسرے کا جواب دیتے رہے۔
