پیکس سلیکا میں شامل ہونے سے ہندوستان کی ڈیٹا پرائیویسی متاثر ہونے کا معاملہ راجیہ سبھا میں اٹھایا گیا
نئی دہلی، 23 مارچ (یو این آئی) امریکہ کی قیادت میں بنائے گئے اسٹریٹجک اتحاد پیکس سلیکا میں ہندوستان کے شامل ہونے سے ہندوستان اور اس کے شہریوں کے ڈیٹا پرائیویسی کے تحفظ سے متعلق مسئلہ پیر کو راجیہ سبھا میں اٹھایا گیا۔کانگریس لیڈر دگ وجے سنگھ نے وقفہ صفر میں یہ معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ ہندوستان حال ہی میں پیکس سلیکا کا رکن بنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اتحاد میں شامل ہونے سے ہندستان کے ڈیٹا کے لیک ہونے اور شہریوں کی رازداری کی خلاف ورزی کا خدشہ ہے۔کانگریس کے رکن نے کہا کہ اس سے ہندستان کی مصنوعی ذہانت (اے آئی) جیسے شعبوں میں خودمختاری اور امکانات پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو ان سروس شرائط کا ایوان میں انکشاف کرنا چاہیے جن کی بنیاد پر ہندوستان اس کا رکن بنا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پیکس سلیکا ڈیجیٹل نوآبادیات ہے اور اس سے ہر ہندوستانی شہری کی پرائیویسی کے تحفظ سے متعلق سوال پیداہوگیا ہے۔انہوں نے اس سے الگ ایک مسئلہ اٹھاتے ہوئے ملک میں اب تک کی اہم جمہوری حصولیابیوں کے سنگ میل کے حوالے سے ایوان میں مختصر دورانیے کی بحث کا مطالبہ کیا۔ بی جے پی کے ڈاکٹر اجیت مادھو راؤ گوپچڑے نے آرگینک کے نام پر ملک میں فروخت کی جانے والی جعلی خوراک کی مصنوعات کی فروخت پر روک لگائے جانے کا معاملہ اٹھایا۔ انہوں نے ملک بھر میں آرگینک فوڈ پروڈکٹس کے لیے یکساں قوانین اور معیارات کے قیام کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ کیمیکل سے لیس کھانے کی اشیاء کا استعمال صحت عامہ کو بری طرح متاثر کر رہا ہے اور ساتھ ہی ساتھ ہندوستانی مصنوعات کا نام بھی خراب کررہا ہے۔ انہوں نے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے سخت قوانین کے نفاذ پر زور دیا اور کہا کہ اس سے ملک کے وقار کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔بی جے پی کے نبام ریبیا نے شمال مشرق کے طلباء کے ساتھ قومی دارالحکومت دہلی میں نسلی امتیاز اور ہراسانی کا مسئلہ اٹھایا۔ انہوں نے ایسے معاملات میں سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ چیئرمین نے کہا کہ پورا ایوان اس معاملے کو ہمدردی کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔کانگریس کے اکھلیش پرساد سنگھ نے بہار کے صنعت کاری کے معاملے میں پیچھے رہنے کا مسئلہ اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ بہار ملک کی مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) میں صرف تین فیصد کا حصہ ڈالتا ہے، کیونکہ وہاں صنعت اور فیکٹری نہیں ہے۔ جس کی وجہ سے لوگ نقل مکانی پر مجبور ہیں۔ انہوں نے ریاست کے اندر انڈسٹریل ٹاؤن شپ کی ترقی کا مطالبہ کیا۔سماج وادی پارٹی کی جیا بچن نے ملک بالخصوص دارالحکومت میں وی آئی پی کلچر کی وجہ سے شہریوں کو ہونے والی پریشانی کا مسئلہ اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ یہ افسوسناک ہے کہ اس کلچر کی وجہ سے ٹیک دینے والے عام لوگوں کو پریشانی اٹھانی پڑی ہے۔ایک ذاتی واقعہ کا حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے بتایا کہ جب وہ اور دیگر اراکین پارلیمنٹ گزشتہ ہفتے شاردول گیٹ سے باہر نکل رہے تھے، تو وی آئی پی موومنٹ کے باعث گیٹ کو بند کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کی تاریخ میں یہ پہلی بار ہوا کہ ممبران پارلیمنٹ کے لیے گیٹ بند کردیا گیا۔ اس سے ارکان پارلیمنٹ کی توہین ہوئی ہے۔ دوسری معاملے کا حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ وی آئی پی موومنٹ کی وجہ سے انہیں راجیہ سبھا کے ریٹائر ہونے والے ممبرن پارلیمنٹ کی الوداعی پارٹیمیں پہنچنے میں ایک گھنٹے سے زیادہ کا وقت لگا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس کلچر کو ختم کیا جائے۔کانگریس کی رجنی پاٹل نے پرائیویٹ اسکولوں میں بڑھتی فیسوں کا مسئلہ اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم شہریوں کا بنیادی حق ہے لیکن حد سے زیادہ فیس کی وجہ سے وہ اس سے محروم ہیں۔عام آدمی پارٹی کے راگھو چڈھا نے موبائل سبسکرائبرز کے فون ریچارج پیکجوں میں غیر استعمال شدہ ڈیٹا کے ختم ہونے کا مسئلہ اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ کمپنیوں نے روزانہ ڈیٹا کی حد روزانہ کے حساب سے مقرر کی ہے، جب کہ یہ ماہانہ ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صارف کا حق ہے اور اس کا غیر استعمال شدہ ڈیٹا صارف کے اکاؤنٹ میں جوڑا جانا چاہیے۔ انہوں نے بچے ہوئے ڈیٹا کو کسی اور کو منتقل کیے جانے کی سہولت شروع کیے جانے کی منگ کی۔اے اے پی کی سواتی مالیوال نے مطالبہ کیا کہ ملک بھر میں خواتین کمیشنوں کو حقیقی اختیارات دیئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ کئی ریاستوں میں ابھی بھی خواتین کمیشن میں عہدیداروں کی تقرری نہیں کی گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دہلی میں بھی خواتین کمیشن کی چیئرپرسن کا عہدہ خالی ہے۔
