ہومNationalڈاکٹر کے کے سنگھ پر اختیارات کے ناجائز استعمال کا الزام

ڈاکٹر کے کے سنگھ پر اختیارات کے ناجائز استعمال کا الزام

Facebook Messenger Twitter WhatsApp

سید بابر اشرف نے فوری معطلی اور عدالتی جانچ کا کیامطالبہ

لکھنؤ،30؍ جنوری(راست)آل انڈیا محمدی مشن کے سیکریٹری جنرل سید بابر اشرف کچھوچھوی نے کنگ جارج میڈیکل یونیورسٹی (کے جی ایم یو) کے نوڈل افسر ڈاکٹر کے۔ کے۔ سنگھ پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے اپنے عہدے کا مبینہ غلط استعمال کرتے ہوئے کے جی ایم یو انتظامیہ اور پولیس انتظامیہ کو گمراہ کن حقائق کی بنیاد پر غلط سمت میں لے جانے کی کوشش کی، اور ذاتی مفاد کے تحت وقف املاک پر غیر قانونی قبضے کی نیت سے 600 سال قدیم، تاریخی اور رجسٹرڈ وقف مقام آستانۂ حاجی ہرمین شاہؒ کے احاطے میں غیر قانونی طور پر انہدامی کارروائی کروائی۔ انہوں نے کہا کہ آستانۂ حاجی ہرمین شاہؒ ایک قانونی طور پر رجسٹرڈ وقف جائیداد ہے، جہاں صدیوں سے صوفی روایات کے مطابق عبادت، زیارت اور مذہبی رسومات ادا کی جاتی رہی ہیں۔ اس کے باوجود کسی بھی قانونی نوٹس کے بغیر، اتر پردیش وقف بورڈ کی پیشگی اجازت کے بغیر اور کسی مجاز اتھارٹی کے باقاعدہ حکم کے بغیر عبادت خانہ، وضوخانہ اور چار دیواری کو منہدم کیا جانا وقف ایکٹ 1995 اور بھارتی آئین کے آرٹیکل 25 اور 26 کی صریح اور سنگین خلاف ورزی ہے۔سید بابر اشرف کچھوچھوی نے واضح کیا کہ کے جی ایم یو کیمپس میں واقع وقف میں درج آستانوں کے علاوہ جو دیگر مزارات موجود ہیں، وہ بھی سب حضرت مخدوم شاہ میناؒ کے عہد کی تاریخی وراثت ہیں، اور کے جی ایم یو/کے جی ایم سی کے قیام کے بعد کسی بھی مزار شریف کی تعمیر نہیں کی گئی۔ لہٰذا انہیں نو تعمیر شدہ یا غیر قانونی قرار دینا تاریخی حقائق کے منافی اور گمراہ کن ہے۔
اس موقع پر راشد علی مینائی (سجادہ نشین) نے کہاکہ “آستانۂ حاجی ہرمین شاہؒ اور اس سے منسلک تمام مزارات ہماری روحانی، تاریخی اور ثقافتی وراثت ہیں۔ ان مقدس مقامات کے ساتھ کسی بھی قسم کی چھیڑ چھاڑ نہ صرف شریعت اور روایت کے خلاف ہے بلکہ آئین کی جانب سے دی گئی مذہبی آزادی کی بھی خلاف ورزی ہے۔ ہم پُرامن طریقے سے، مگر پوری ثابت قدمی کے ساتھ، انصاف اور تحفظ کا مطالبہ کرتے ہیں۔”وہیں پیرزادہ ناصر علی مینائی (سجادہ نشین) نے کہاکہ “درگاہوں اور مزارات کا وجود کے جی ایم یو سے کہیں زیادہ قدیم ہے۔ انہیں غیر قانونی قرار دینا یا منہدم کرنے کی کوئی بھی کوشش تاریخ کو مٹانے کے مترادف ہے۔ ہم انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ غیر جانبدارانہ تحقیقات کر کے قصورواروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے اور ان مقدس مقامات کی حرمت بحال کی جائے۔”انہوں نے مزید کہا کہ اس مبینہ غیر قانونی اور من مانی کارروائی سے نہ صرف مذہبی جذبات مجروح ہوئے ہیں بلکہ صوبے اور ملک بھر کے کروڑوں مسلمانوں کے دلوں کو گہری ٹھیس پہنچی ہے۔ مسلم سماج کی متعدد سماجی، مذہبی اور شہری تنظیموں نے اس پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ درگاہ کے مرکزی دروازے کو بند کر کے زائرین کے مذہبی حقوق پر پابندی عائد کرنا سماجی ہم آہنگی اور امن و امان کے لیے بھی سنگین تشویش کا باعث ہے۔ سید بابر اشرف کچھوچھوی نے بتایا کہ اس معاملے میں اتر پردیش حکومت کے پرنسپل سیکریٹری (صحت) امت گھوش کو ایک باضابطہ یادداشت ارسال کی گئی ہے، جس میں یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ ڈاکٹر کے۔ کے۔ سنگھ کو درگاہ کے احاطے کو منہدم کرنے کا قانونی اختیار یا اجازت کس مجاز اتھارٹی سے حاصل تھی۔ اس سوال کا جواب نہ ملنا خود اس کارروائی کی قانونی حیثیت پر بڑا سوالیہ نشان ہے۔آل انڈیا محمدی مشن نے کہا کہ مسلم سماج کی تقریباً تمام مذہبی، سماجی اور شہری تنظیمیں ایک آواز میں ڈاکٹر کے۔ کے۔ سنگھ کی فوری معطلی اور آزاد و اعلیٰ سطحی عدالتی جانچ کا مطالبہ کر رہی ہیں۔
اہم مطالبات:

  1. ڈاکٹر کے۔ کے۔ سنگھ کو فوری طور پر کے جی ایم یو کیمپس سے ہٹا کر معطل کیا جائے؛
  2. غیر جانبدار، آزاد اور اعلیٰ سطحی عدالتی؍انتظامی جانچ کرائی جائے؛
  3. وقف املاک میں غیر قانونی مداخلت اور انہدام کے ذمہ دار افراد؍افسران کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے؛
  4. آستانۂ حاجی ہرمین شاہؒ کی سابقہ حالت (اسٹیٹس کو اینٹے) بحال کر کے تعمیر نو کرائی جائے؛
  5. زائرین پر عائد تمام پابندیاں فوری طور پر ہٹائی جائیں اور ان کی سلامتی کو یقینی بنایا جائے۔
    انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مقررہ وقت میں انصاف فراہم نہیں کیا گیا تو آل انڈیا محمدی مشن پُرامن، جمہوری اور آئینی دائرے میں رہتے ہوئے صوبہ گیر تحریک چلانے پر مجبور ہوگی۔
Jadeed Bharathttps://jadeedbharat.com
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.
Exit mobile version