لکھنؤ25 فروری 2026:(راست) خواجہ معین الدین چشتی لینگویج یونیورسٹی میں شعبۂ عربی کے نئے سربراہ کے طور پر ڈاکٹر عبدالحفیظ کو محکمہ جاتی سربراہی کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ اس موقع پر یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر اجے تنیجا سمیت تمام اساتذۂ کرام نے ڈاکٹر عبدالحفیظ کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کی اور ان کے روشن مستقبل کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔شعبۂ عربی یونیورسٹی کی اہم اور فعال علمی شعبوں میں شمار ہوتا ہےجہاں زبان و ادبِ عربی، اسلامیات، ترجمہ نگاری، لسانیات اور تحقیق کے میدان میں معیاری تدریس و تربیت کا سلسلہ جاری ہے۔ اس شعبے کے تحت یو جی، پی جی اور پی ایچ ڈی سطح پر تعلیم فراہم کی جاتی ہے اور طلبہ کی علمی و تحقیقی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے وقتاََ فوقتاََ سیمینارز، ورکشاپس، توسیعی خطبات اور علمی نشستوں کا انعقاد بھی کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر عبدالحفیظ کی تقرری سے توقع کی جا رہی ہے کہ شعبۂ عربی تعلیمی معیار، تحقیقی سرگرمیوں اور نصابی و ہم نصابی پروگراموں کے میدان میں نئی پیش رفت کرے گا۔اوراس کے ساتھ ہی اساتذہ نے امید ظاہر کی کہ ڈاکٹر عبدا؛لحفیظ اپنی علمی بصیرت، انتظامی صلاحیت اور تدریسی تجربے کی بنیاد پر شعبۂ عربی کو ترقی کی نئی بلندیوں تک لے جائیں گے اور یونیورسٹی کے تعلیمی و تحقیقی وقار میں مزید اضافہ کریں گے۔اس موقع پر شعبۂ اردو کے استاد ڈاکٹر محمد اکمل نے ڈاکٹر عبدالحفیظ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر عبدالحفیظ ایک صاحبِ علم، مخلص اور متحرک استاد ہیں۔ ہمیں کامل یقین ہے کہ ان کی قیادت میں شعبۂ عربی علمی و تحقیقی اعتبار سے مزید مستحکم ہوگا اور طلبہ کو بہتر تعلیمی ماحول میسر آئے گا۔سی طرح شعبۂ فارسی کے انچارج ڈاکٹر عارف عباس نے بھی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر عبدالحفیظ کی تقرری شعبۂ عربی کے لیے ایک خوش آئند قدم ہے۔ ان کی علمی بصیرت اور انتظامی صلاحیت یقینی طور پر شعبے کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔اس موقع پر اظہارخیال کرتے ہوئے ڈاکٹر عبدالحفیظ نے کہا کہ ان کا بنیادی مقصد شعبۂ عربی کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے اعلیٰ معیار کی تعلیم، معیاری تحقیق اور طلبہ کی ہمہ جہت شخصیت سازی کو فروغ دینا ہے۔ انھوں نے کہا کہ وہ شعبے کے اساتذہ اور طلبہ کے باہمی تعاون سے یونیورسٹی کو تعلیمی، تحقیقی اور انتظامی سطح پر نئی بلندیوں تک پہنچانے کے لیے پوری سنجیدگی اور اخلاص کے ساتھ کام کریں گے۔
