این آئی اے کو جواب داخل کرنے کا آخری موقع، آئندہ سماعت 22 اپریل کو مقرر
نئی دہلی، 28 جنوری :۔ (ایجنسی) دہلی ہائی کورٹ نے علیحدگی پسند رہنما یاسین ملک کے خلاف قتل اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے مقدمے میں بدھ کو سماعت ملتوی کر دی ہے۔ جسٹس نوین چاولہ کی سربراہی والی بنچ نے قومی تفتیشی ایجنسی (این آئی اے) کو یاسین ملک کے جواب پر اپنا مؤقف پیش کرنے کا آخری موقع دیا ہے۔ عدالت نے کیس کی اگلی سماعت 22 اپریل کو مقرر کی ہے۔ یاد رہے کہ پٹیالہ ہاؤس کورٹ نے 25 مئی 2022 کو یاسین ملک کو مختلف دفعات کے تحت عمر قید اور جرمانے کی سزا سنائی تھی۔ ان دفعات میں یو اے پی اے اور تعزیرات ہند کی متعدد شقیں شامل تھیں، جن کے تحت ملک پر مجموعی طور پر زیادہ سے زیادہ عمر قید اور 10 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا تھا۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ تمام سزائیں ایک ساتھ چلیں گی، جس کا مطلب ہے کہ زیادہ سے زیادہ سزا اور جرمانہ مؤثر ہو گا۔ یاسین ملک نے 10 مئی 2022 کو پٹیالہ ہاؤس کورٹ میں اپنے جرم کا اعتراف کیا تھا۔ این آئی اے کے مطابق یاسین ملک کے ساتھ دیگر ملزمان جیسے حافظ سعید، سید صلاح الدین، شبیر شاہ اور دیگر نے پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسی آئی ایس آئی کے تعاون سے لشکر طیبہ، حزب المجاہدین، جے کے ایل ایف اور جیش محمد جیسی تنظیموں کے لیے فنڈنگ کی، جسے جموں و کشمیر میں دہشت گردانہ کارروائیوں میں استعمال کیا گیا۔ ان سرگرمیوں میں عام شہریوں اور سیکورٹی فورسز پر حملے، اسکولوں اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانا شامل تھا۔ملزمان کے خلاف مقدمہ وزارت داخلہ کی معلومات کے بعد تعزیرات ہند اور یو اے پی اے کی متعدد دفعات کے تحت درج کیا گیا تھا۔ ہائی کورٹ نے سماعت ملتوی کرتے ہوئے این آئی اے کو ہدایت دی ہے کہ وہ کیس میں اپنے دلائل جلد از جلد پیش کرے تاکہ قانونی کارروائی آگے بڑھ سکے۔
