اسپیکر کے رولنگ کو کسی رکن کی انا کا مسئلہ نہیں بنانا چاہیے: روی شنکر پرساد
نئی دہلی، 11 مارچ (یو این آئی) بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے روی شنکر پرساد نے بدھ کے روز لوک سبھا میں کہا کہ اسپیکر ایوان کا سربراہ ہوتا ہے اور ان کی طرف سے دی گئی رولنگ کو کسی رکن کی انا کا مسئلہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔مسٹر پرساد نے اسپیکر اوم برلا کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن ارکان کی جانب سے جمہوری اقدار پر بار بار سوال اٹھائے جا رہے ہیں، تو وہ انہیں یاد دلانا چاہتے ہیں کہ ایمرجنسی کے دوران جمہوری اقدار کو بالائے طاق رکھ کر اسی ایوان کی مدت پانچ سے بڑھا کر چھ سال کر دی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ایوان کی کارروائی اصولوں اور ضوابط کے تحت چلتی ہے، کسی رکن کو یہاں انتشار پھیلانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔مسٹر پرساد نے ایوان میں اپوزیشن لیڈر کے فرائض اور ذمہ داریوں کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر راہل گاندھی کا نام لیا اور کہا کہ انہیں قوانین و ضوابط پڑھائے جانے چاہئیں۔ اس پر مسٹر گاندھی نے کہا کہ چونکہ ان کا نام لیا گیا ہے، اس لیے انہیں بولنے کا موقع دیا جانا چاہیے۔ پریذائیڈنگ آفیسر دلیپ سیکیا نے کہا کہ مسٹر پرساد کے بیان کے بعد انہیں موقع دیا جائے گا۔ اجازت نہ ملنے پر کانگریس کے ارکان شور شرابہ کرتے ہوئے ایوان کے وسط میں آ گئے۔اس کے بعد جب مسٹر سیکیا نے مسٹر راہل گاندھی کو بولنے کا موقع دیا تو انہوں نے کہا کہ انہیں اکثر بولنے کا موقع نہیں دیا جاتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ کسی ایک جماعت کا ایوان نہیں ہے، لیکن جب بھی وہ بولنے کے لیے کھڑے ہوتے ہیں، انہیں موقع نہیں دیا جاتا۔سماج وادی پارٹی کے آنند بھدوریا نے کہا کہ اپوزیشن کی جانب سے یہ تحریکِ عدم اعتماد اسپیکر کے عہدے کا وقار بچانے، ایوان کے حقوق کے تحفظ اور اقتدار میں بیٹھی جماعت کے رویے کے خلاف لائی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایوان کا وقار برقرار رکھنا اپوزیشن سے زیادہ حکمران جماعت کی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ جب کچھ خاتون ارکانِ پارلیمنٹ ایوان میں وزیراعظم کی نشست کی طرف بڑھیں تو وزیراعظم کی جان کو خطرہ بتایا گیا۔ اسرائیل-غزہ بحران کے بعد کوئی سربراہِ مملکت اسرائیل نہیں گیا، لیکن وزیراعظم نریندر مودی اسرائیل گئے۔ وہاں ان کے پہنچنے کے چند ہی گھنٹوں بعد اسرائیل-ایران جنگ شروع ہو گئی، کیا تب وزیراعظم کی جان کو خطرہ نہیں ہوا؟انہوں نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی اسرائیل اور امریکہ کے حملے کے دوران ہلاکت کو شہادت قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے امریکہ کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکے۔ انہوں نے ہندوستان اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدے کے حوالے سے حکومت پر الزام لگایا کہ اس نے امریکہ کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے ہیں۔مسٹر بھدوریا نے کہا کہ وہ ایوان میں مہنگائی، بے روزگاری، کسانوں کے مسائل اور خواتین کے خلاف ہوئے مظالم کے معاملات اٹھانے آتے ہیں لیکن انہیں وافر موقع نہیں دیا جاتا۔مسٹر بھدوریا نے کہا کہ “راہل جی نے کھولی ہے محبت کی دکان، کیونکہ نفرتی لوگوں کو پیار کی ضرورت ہے۔ جیت نے اندھا کر دیا ہے تمہیں، ایک ہار کی ضرورت ہے۔”کانگریس کے کے سی وینوگوپال نے کہا کہ سب سے پہلے اقتدار میں بیٹھی جماعت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اسپیکر کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کس وجہ سے لائی گئی ہے۔ اسپیکر نے ایوان میں کہا ہے کہ انہیں اطلاع ملی ہے کہ کانگریس کی خاتون ارکانِ پارلیمنٹ وزیراعظم پر حملہ کر سکتی ہیں۔ اسپیکر بتائیں کہ انہیں یہ اطلاع کہاں سے ملی اور اس حوالے سے پولیس میں رپورٹ کیوں درج نہیں کرائی گئی۔پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے اس پر مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ اسپیکر اوم برلا پر جو الزامات مسٹر وینوگوپال لگا رہے ہیں وہ غلط ہیں، کیونکہ اس بارے میں وضاحت دینے کے لیے اسپیکر ایوان میں موجود نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس بات کے گواہ ہیں کہ اسپیکر سے ملنے جانے والے کانگریس کے وفد میں شامل ایک رکن نے ویڈیو جاری کی جس میں صاف نظر آ رہا ہے کہ اسپیکر کو دھمکایا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ کانگریس ارکانِ پارلیمنٹ کا رویہ بہت خراب تھا جس کے ثبوت سی سی ٹی وی میں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی پارلیمانی تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوا۔ کانگریس کو بتانا چاہیے کہ آخر اس کے ارکان کو کس وجہ سے اسپیکر کے چیمبر میں بھیجا گیا تھا۔انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر داخلہ بار بار اسپیکر کے کمرے میں جا کر انہیں مشورے دیتے ہیں۔ آخر وزیر داخلہ بار بار اسپیکر کے چیمبر میں کیوں جاتے ہیں؟ یہ واضح ہے کہ وہ کچھ مشورہ دیتے ہیں اور اس سے پارلیمنٹ کی کارروائی متاثر ہوتی ہے۔ اس طرح کے اقدامات سے ایوان کا وقار کم کیا جا رہا ہے۔ گزشتہ لوک سبھا میں کانگریس لیڈر راہل گاندھی کی رکنیت ختم کر دی گئی تھی۔ پارلیمنٹ کی کارروائی چلتی ہے لیکن وزیراعظم نریندر مودی ایوان میں آتے ہی نہیں ہیں۔ کانگریس کے آٹھ ارکان کو باہر بٹھایا گیا ہے؛ ان ارکان کو معطل کر دیا گیا ہے اور وہ تمام ارکان پورے بجٹ سیشن کے لیے معطل ہیں۔مسٹر وینوگوپال نے بی جے پی لیڈر روی شنکر پرساد کی جانب سے اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کی تقریروں کے اقتباسات کے ساتھ ان پر کیے گئے حملوں کے جواب میں وزیراعظم کی کئی تقریروں کا ذکر کرتے ہوئے جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں رسوئی گیس کے سلنڈر کی فروخت کم ہو گئی ہے۔ امریکہ کی طرف سے ہندوستان پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے، تو ہندوستان کو امریکہ کو کرارا جواب دینا چاہیے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جب اپوزیشن کے لوگ کچھ کہنا چاہتے ہیں تو ان کے مائیک بند کر دیے جاتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سیشن میں اقتدار میں بیٹھی جماعت میں ایک تبدیلی دیکھنے کو مل رہی ہے اور وہ یہ ہے کہ پہلے سب لوگ پنڈت نہرو کی تنقید کرتے تھے لیکن اس بار سب لوگ پنڈت نہرو کی تعریف کر رہے ہیں۔ حکومت ای ڈی، سی بی آئی اور الیکشن کمیشن سب کا غلط استعمال کر رہی ہے اور حکمراں جماعت پورے نظام کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ترنمول کانگریس کی سیانی گھوش نے کہا کہ وہ پارلیمنٹ میں مسلسل دیکھ رہی ہیں کہ ملک میں جمہوریت کو ختم کیا جا رہا ہے اور اپوزیشن کے ارکان کو بولنے نہیں دیا جا رہا۔ ڈپٹی اسپیکر کا عہدہ اس لیے خالی رکھا گیا ہے تاکہ اپوزیشن کی طرف سے کوئی اسپیکر کی نشست پر نہ بیٹھے۔اسی طرح پارلیمنٹ کی کارروائی کے دنوں کو بھی کم کیا جا رہا ہے، جبکہ ہر سال پارلیمنٹ کم از کم سو دن چلنی چاہیے۔ اسپیکر کی نشست کا استعمال اپوزیشن کی آواز دبانے اور جمہوریت کو کمزور کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے شفافیت اور جوابدہی کو مکمل طور پر ختم کر دیا ہے اور ریلوے بجٹ کو وفاقی بجٹ کے ساتھ ضم کر دیا ہے۔ ریلوے کس طرح ترقی کر رہی ہے، اس بارے میں تمام معلومات ریلوے بجٹ سے ملتی تھیں لیکن مودی حکومت نے لوگوں کا یہ حق ختم کر دیا ہے۔ حکومت بل پاس کراتی ہے لیکن ان پر بحث تک نہیں ہوتی۔ الیکشن کمیشن کے ذریعے لاکھوں لوگوں کے نام فہرستوں سے کٹوائے جا رہے ہیں لیکن حکومت چاہتی ہے کہ اپوزیشن اس پر نہ بولے، اس لیے اپوزیشن کو بولنے کا موقع نہیں دیا جاتا۔ حکومت انصاف نہیں کر رہی ہے اور وہ ایوان کے اندر اور باہر، دونوں طرف بلڈوزر چلا رہی ہے۔انڈین یونین مسلم لیگ کے ای ٹی محمد بشیر نے کہا کہ پارلیمانی جمہوریت میں اظہارِ رائے کی آزادی ضروری ہے، لیکن اس حکومت نے اس روایت کو توڑ دیا ہے اور منتخب ارکان کو ایوان سے باہر کر دیا گیا ہے۔ حکومت ملک کی پارلیمانی ثقافت کو ختم کرنے اور اپوزیشن کو ڈیکٹیٹ کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو کہ غلط ہے اور یہ جان بوجھ کر اپوزیشن کی آواز دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ حکومت اس طرح کے ہتھکنڈے اپنا رہی ہے جو کہ مناسب نہیں ہے۔
