سردار پٹیل کی جھانکی بنانے کے نام پر ہوئے بدعنوانی پر معافی مانگے بی جے پی: کانگریس
نئی دہلی، 09 جنوری (یواین آئی) کانگریس نے الزام لگایا ہے کہ گجرات کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) حکومت نے سردار ولبھ بھائی پٹیل کی 150ویں یوم پیدائش پر منعقدہ پروگرام کے لیے جھانکی بنانے کے کام میں بدعنوانی کی ہے اور اس کے لیے ضابطوں کا اتباع نہ کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی کے بھائی کو ذمہ داری سونپی گئی ہے، اس لیے بی جے پی حکومت کو اس بارے میں معافی مانگنی چاہیے۔کانگریس کے راجیہ سبھا رکن شکتی سنگھ گوہل نے جمعہ کو یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس میں کہا کہ بی جے پی اور اس کے لوگ خود بدعنوانی کرتے ہیں اور نعرہ دیتے ہیں “نہ کھاؤں گا، نہ کھانے دوں گا۔” لیکن گجرات میں انہی سردار ولبھ بھائی پٹیل کے نام پر بدعنوانی ہو رہی ہے جو گجرات کانگریس کے پہلے صدر تھے اور وہ 25 سال تک صوبائی کانگریس کے صدر رہے۔مسٹر گوہل نے کہا کہ انہی مرد آہن سردار ولبھ بھائی پٹیل کے نام پر بی جے پی بدعنوانی کر رہی ہے۔ سب کو معلوم ہے کہ حکومت ہند نے سردار پٹیل کی 150ویں جینتی پر گجرات میں ایکتا پریڈ پروگرام رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سردار پٹیل کی جینتی پر منعقدہ تقریب کے لیے جھانکی بنانی ہے اور اس کے لیے ریاستی حکومت نے ایک سرکلر نکالا جس میں پانچ کمپنیوں کے نام رکھے گئے۔ زارت داخلہ نے 31 اکتوبر کو ایک سرکلر میں جن کمپنیوں کو ایکتا پریڈ کی جھانکی بنانے کے کام کے لیے منتخب کیا ان میں میسرز لائیو پکسل ٹیکنالوجی، میسرز سدھیشور کنوگا، میسرز ویشا کنوگ، میسرز سوشانت کھیدکر اور میسرز اسمارٹ گراف آرٹ ایڈورٹائزنگ کا نام شامل ہے۔
کانگریس لیڈر نے کہا کہ اس کے لیے کوئی ٹینڈر نہیں منگوائے گئے۔ حکومت نے ٹینڈر نہ منگوانے کا سبب بتاتے ہوئے کہا کہ وقت نہیں ہے اس لیے جلدبازی میں ٹینڈر نہیں منگوائے گئے۔ جھانکی بنانے کے لیے جو پانچ نام دیے گئے ہیں وہ سب ایک ہی شطرنج کی گوٹیاں ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سردار پٹیل کی جینتی ہے اس کی سب کو اطلاع ہے پھر بھی وقت پر اس کے لیے ٹینڈر نہیں منگوائے گئے۔ اس میں کمال کی بات یہ ہے کہ حکومت نے 29 اکتوبر کو ایک اور سرکلر جاری کر بتایا کہ جن پانچ فرمز کے نام رکھے گئے ہیں ان میں جھانکی کس کو بنانا ہے، مسٹر پنکج مودی کو اسے آخری شکل دینا ہے۔مسٹر پنکج مودی کا تعارف کراتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ وہ وزیر اعظم نریندر مودی کے بھائی ہیں۔ انہیں جھانکی کے کام کے لیے فی دن دس ہزار روپے اور دیگر سہولتیں دی جانی ہیں۔ یہ سب ٹھیک ہے کہ حکومت نے انہیں اس کام کے لیے تقرری کی ہے لیکن مسٹر مودی جھانکی بنانے کے ماہر نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پنکج مودی نے 1981 میں کلاس-3 کی نوکری شروع کی اور وہ کلاس-1 افسر بنے جبکہ ان کے ساتھ کے کسی بھی دیگر ملازم کو کلاس-1 تک ترقی نہیں ملی۔کانگریس لیڈر نے کہا کہ ضابطہ جاتی عمل کی خلاف ورزی کر کے سردار پٹیل کی جھانکی بنانے کے کام میں بدعنوانی ہوئی ہے اور یہ سردار پٹیل کی توہین ہے، اس لیے بی جے پی کو اس کے لیے ملک سے معافی مانگنی چاہیے۔
