ہندو میرج ایکٹ کی خلاف ورزی کا الزام
کھرگون، 17 مارچ (یو این آئی) سپریم کورٹ کی وکیل نازیہ الٰہی خان نے مدھیہ پردیش میں مہیشور کی رہنے والے مونالیزا اور فرمان خان کی شادی پر ایک پریس کانفرنس سنگین قانونی اور سماجی اعتراضات اٹھائے ہیں۔انہوں نے الزام لگایا کہ یہ شادی ہندو میرج ایکٹ 1955 کی خلاف ورزی ہے اور اس میں ہندو رسم و رواج کا غلط استعمال ہوا ہے۔پیر کی شام کھرگون میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے محترمہ نازیہ الہی خان نے کہا کہ اگر فرمان خان خود کو مسلمان سمجھتے ہیں تو اس کا ہندو روایات کے مطابق مندر میں شادی کرنا قانون اور مذہبی اصولوں کے خلاف ہے۔ اسے “سازش” قرار دیتے ہوئے انہوں نے اس معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مطالبہ کیا کہ وہ بین مذاہب شادیوں سے متعلق بی این ایس کی دفعہ 69 ناکافی ہے اور تنازعات کو حل کرنے کے لیے واضح اور سخت قانونی دفعات نافذ کی جائیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ موجودہ قانونی فریم ورک کی کچھ دفعات ناکافی ہیں اور ان پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔انہوں نے بعض تنظیموں کے ممکنہ کردار پر بھی سوال اٹھایا اور سکیورٹی ایجنسیوں پر زور دیا کہ وہ پورے معاملے کی مکمل تحقیقات کریں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر کوئی سازش یا غیر قانونی سرگرمی کا پتہ چلتا ہے تو متعلقہ ادارے فوری کارروائی کریں۔مونالیزا کے خاندان کا ذکر کرتے ہوئے نازیہ الہی خان نے کہا کہ اس واقعے کا اس خاندان، خاص طور پر اس کی والدہ پر نفسیاتی اثر پڑا ہے اور انتظامیہ کو ان کی حفاظت اور صحت کو یقینی بنانا چاہیے۔ انہوں نے کیرالہ کی ریاستی حکومت سے اپیل کی کہ وہ مونالیزا کی صورتحال پر اس کی والدہ سے بات کریں اور صورتحال کو واضح کریں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مونالیزا نابالغ ہے اور نکاح نامہ حاصل کرنے کے لیے جعلی معلومات فراہم کرکے دستاویزات تیار کیے گئے ہیں۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ مونالیزا کو جلد بازی میں تیار کردہ پاسپورٹ سے شام بھیجا جا سکتا ہے۔محترمہ نازیہ الہی خان نے یہ بھی واضح کیا کہ ان کا مقصد کسی بھی قسم کی قانونی شادی یا شخصی آزادی کی مخالفت کرنا نہیں ہے، بلکہ اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ تمام طریقہ کار قانون کے دائرے میں رہ کر انجام دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر شادی قانونی ہے تو اسے شفاف طریقے سے انجام دیا جائے۔پریس کانفرنس میں ان کے ساتھ فلم ڈائریکٹر سنوج مشرا بھی موجود تھے۔
