آل انڈیا محمدی مشن مغربی ایشیا میں اعلان کردہ جنگ بندی کا محتاط خیرمقدم کرتا ہے۔ یہ قدم یقیناً اس خطے اور پوری دنیا کے لیے ایک راحت کا پیغام ہے، جو طویل عرصے سے کشیدگی، تشدد اور عدم استحکام کا شکار رہی ہے۔ اس موقع پر سید بابر اشرف کچھوچھوی نے کہا کہ آج پوری دنیا ایران کی مظلومیت اور وہاں کے بے گناہ افراد پر ہونے والے مظالم سے بخوبی آگاہ ہے۔ یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ امریکہ نے کس طرح سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو استعمال کرتے ہوئے دنیا، بالخصوص مسلم دنیا میں تباہی اور انتشار کو فروغ دیا، جس کے اثرات آج پوری طرح نمایاں ہیں۔ اس تمام صورتحال میں اسرائیل کا کردار بھی کسی سے پوشیدہ نہیں رہا۔
انہوں نے کہا کہ آج ہونے والی جنگ بندی ایران کی ایک اہم سفارتی کامیابی کے طور پر سامنے آئی ہے، کیونکہ ایران نے اپنے بنیادی مؤقف کو عالمی سطح پر منوانے میں کامیابی حاصل کی۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق اس جنگ بندی میں چند اہم نکات شامل ہیں:
ایران کی شرط پر آبنائے ہرمز کو کھولنے اور اس پر اس کی اسٹریٹیجک حیثیت کو تسلیم کیا گیا
امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے فوجی کارروائیاں عارضی طور پر روکنے پر اتفاق کیا
ایران نے یہ واضح کیا کہ حملے رکنے کی صورت میں وہ بھی اپنی دفاعی کارروائیاں روک دے گا ۔
ایران کے مجوزہ امن منصوبے میں پابندیوں میں نرمی، اثاثوں کی واپسی اور عدم جارحیت کی ضمانت جیسے نکات کو مذاکرات کا حصہ بنایا گیا ۔انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ یہ جنگ بندی ایک مثبت پیش رفت ہے، لیکن اسے محض وقتی وقفہ نہیں سمجھنا چاہیے۔ عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ اسے مستقل امن اور انصاف میں تبدیل کرے تاکہ مستقبل میں ایسے سانحات کی تکرار نہ ہو۔ بابر اشرف کچھوچھوی نے کہا کہ آل انڈیا محمدی مشن کا واضح مؤقف ہے کہ وہ نظریات جو معاشرے میں نفرت، تفرقہ اور بدامنی کو فروغ دیتے ہیں، کسی بھی ملک کی داخلی سلامتی اور عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ بالخصوص وہابیت (سیاسی اسلام) کو ایک ایسے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا ہے جس کے ذریعے تہذیبوں کو کمزور، معاشروں کو تقسیم اور وسائل کی لوٹ مار کو آسان بنایا گیا۔
انہوں نے اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا کہ سعودی عرب اور قطر نے اربوں ڈالر خرچ کرکے اس فکر کو اسلام کے نام پر فروغ دیا، حالانکہ حقیقت میں یہ پوری دنیا میں امن، استحکام اور انسانیت کے لیے ایک بڑا خطرہ بنتی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ آج اس بات کی سخت ضرورت ہے کہ مسلم دانشور، علماء کرام اور ذمہ دارانِ ملت آگے آئیں، حقائق کو سمجھیں اور معاشرے کی درست رہنمائی کے لیے اپنی آواز بلند کریں۔انہوں نے مزید کہا کہ اس کے برعکس، تصوف کی تعلیمات جو محبت، رواداری، بھائی چارے اور انسان دوستی پر مبنی ہیں معاشرے کو جوڑنے اور پائیدار امن کے قیام کا مضبوط ذریعہ بن سکتی ہیں۔
اسی تناظر میں انہوں نے کہا کہ دستورِ محمدی ﷺ وہ عظیم ضابطۂ حیات ہے جس کی حفاظت کے لیے امام حسین علیہ السلام نے اپنا سب کچھ قربان کر دیا اور ایک ایسا سرمایۂ عظیم قیامت تک کے لیے محفوظ کر دیا جو دنیا و آخرت میں کامیابی کا ذریعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ دستورِ محمدی ﷺ پر عمل کرنے کی پہلی شرط وفاداری (Loyalty) ہے۔ جو شخص نبی کریم ﷺ اور اہلِ بیت اطہار سے سچی محبت رکھتے ہوئے ان کے بتائے ہوئے راستے پر چلتا ہے، وہ اپنے ملک کا بھی سچا وفادار ہوتا ہے۔یہی تعلیمات انسانیت کی بقا، ظلم کے خلاف کھڑے ہونے کی جرات، ظالم کے مقابلے کی ہمت اور کمزوروں کی مدد کا درس دیتی ہیں۔بابر اشرف کچھوچھوی نے مزید کہا کہ ایران کا ہندوستان کے صوفی مسلمانوں سے ایک روحانی تعلق ہے جو دائمی اور مضبوط ہے۔ اسی بنیاد پر مشن یہ یقین دلاتا ہے کہ انسانیت کی بقا اور امن کی بحالی کے لیے ہندوستان کا صوفی ہمیشہ حق اور انصاف کے ساتھ کھڑا رہے گا۔
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ جنگ بندی صرف ہتھیاروں کی خاموشی تک محدود نہ رہے بلکہ فکر و شعور میں مثبت تبدیلی اور انسانیت کی فتح کا ذریعہ بنے۔آخر میں آل انڈیا محمدی مشن عالمی برادری، عالمی رہنماؤں اور بین الاقوامی اداروں سے اپیل کرتا ہے کہ وہ سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر انصاف، انسانیت اور پائیدار امن کے قیام کے لیے سنجیدہ اور مخلصانہ اقدامات کریں۔“ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا ہی انسانیت کی اصل پہچان ہے۔”
