اب صرف آدھار کارڈ کافی نہیں ہوگا
نئی دہلی، 31 مارچ:۔ (ایجنسی) ملک میں پین کارڈ بنانے کے عمل میں یکم اپریل سے بڑی تبدیلی ہونے جا رہی ہے۔ اب تک جہاں صرف آدھار کارڈ کی بنیاد پر پین کارڈ حاصل کیا جا سکتا تھا، وہیں نئے اصولوں کے تحت اب اضافی دستاویزات جمع کروانا لازمی ہوگا۔ اس فیصلے کے بعد پین کارڈ کے لیے درخواست دینے کا طریقہ کار مزید سخت کر دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق اگر کوئی شخص 31 مارچ تک پین کارڈ کے لیے درخواست دیتا ہے تو وہ پرانے اصول کے مطابق صرف آدھار کارڈ کے ذریعے پین حاصل کر سکتا ہے۔ تاہم 1 اپریل کے بعد درخواست دینے والوں کو آدھار کے ساتھ دیگر دستاویزات بھی فراہم کرنا ہوں گے۔ ان دستاویزات میں پیدائش کا سرٹیفکیٹ، ووٹر آئی ڈی کارڈ، پاسپورٹ، ڈرائیونگ لائسنس، میٹرک سرٹیفکیٹ یا مجسٹریٹ کی جانب سے جاری کردہ حلف نامہ شامل ہیں۔ نئے اصولوں کے تحت پین کارڈ پر درج نام مکمل طور پر آدھار کارڈ میں موجود نام کے مطابق ہی ہونا لازمی ہوگا۔ اس کے علاوہ حکومت نے موجودہ پین درخواست فارم کو بھی ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق 1 اپریل 2026 سے پرانے پین ایپلیکیشن فارم استعمال نہیں کیے جا سکیں گے۔ نہ صرف نئے پین کارڈ کے لیے بلکہ پرانے پین کارڈ میں کسی بھی قسم کی ترمیم یا اپڈیٹ کے لیے بھی نئے فارم کا استعمال لازمی ہوگا۔ اگر کوئی شخص پرانے فارم کے ذریعے درخواست دیتا ہے تو اس کی درخواست قبول نہیں کی جائے گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان تبدیلیوں کا مقصد پین کارڈ کے عمل کو مزید شفاف اور محفوظ بنانا ہے، تاکہ جعلی دستاویزات اور دھوکہ دہی کے امکانات کو کم کیا جا سکے۔ ایسے میں جو افراد نیا پین کارڈ بنوانا چاہتے ہیں یا اپنے موجودہ کارڈ میں تبدیلی کروانا چاہتے ہیں، انہیں نئے اصولوں کے مطابق ہی درخواست دینی ہوگی۔
