ہومNationalخلیجی ممالک سے اب تک 67 ہزار ہندوستانی وطن واپس، دو ملاح...

خلیجی ممالک سے اب تک 67 ہزار ہندوستانی وطن واپس، دو ملاح ہلاک

Facebook Messenger Twitter WhatsApp

وزیر خارجہ جے شنکر نے پارلیمنٹ میں ہندوستانی شہریوں کے تحفظ اور انخلا کیلئے اقدامات بیان کیے

نئی دہلی، 9 مارچ:۔ (ایجنسی) وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے پیر کو پارلیمنٹ میں کہا کہ حکومتِ ہند مغربی ایشیا میں جاری تنازعے کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور خطے میں موجود ہندوستانی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کیلئے تمام ممکنہ اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں ’مغربی ایشیا کی صورت حال‘ پر اپنے بیان میں جے شنکر نے وضاحت کی کہ 28 فروری کو شروع ہونے والا تنازعہ ایک جانب اسرائیل اور امریکہ جبکہ دوسری جانب ایران کے گرد مرکوز ہے، جب کہ کئی خلیجی ممالک پر بھی حملے ہو چکے ہیں۔ اس تنازعے کے نتیجے میں بھاری جانی نقصان ہوا ہے اور بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔
کابینہ کمیٹی برائے سلامتی کا اجلاس
انہوں نے بتایا کہ صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر یکم مارچ کو وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں کابینہ کمیٹی برائے سلامتی (سی سی ایس) کا اجلاس منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں خطے میں مقیم ہندوستانیوں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ علاقائی سلامتی، تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں پر پڑنے والے ممکنہ اثرات کا جائزہ لیا گیا۔
ہندوستانی مسافروں اور طلبہ کو درپیش مشکلات
اجلاس میں کمیٹی کو خطے میں آنے اور جانے والے ہندوستانی مسافروں اور وہاں منعقد ہونے والے امتحانات میں شرکت کرنے والے طلبہ کو درپیش مشکلات سے بھی آگاہ کیا گیا۔ کمیٹی نے تمام متعلقہ وزارتوں اور محکموں کو ہدایت دی کہ وہ ان مسائل کے حل کیلئے مناسب اقدامات کریں۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ وزیر اعظم نئی پیش رفت پر مسلسل گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
مغربی ایشیا کی ہندوستان کیلئے اہمیت
جے شنکر نے کہا کہ مغربی ایشیا ہندوستان کیلئے خاص اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ تقریباً ایک کروڑ ہندوستانی شہری خلیجی ممالک میں رہتے اور کام کرتے ہیں، جبکہ ایران میں ہزاروں ہندوستانی طلبہ اور پیشہ ور افراد بھی موجود ہیں۔ اس کے علاوہ یہ خطہ ہندوستان کی توانائی کی سلامتی کیلئے بھی نہایت اہم ہے۔
تجارت، سرمایہ کاری اور سپلائی چین پر اثرات
انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک ہندوستان کے اہم تجارتی شراکت دار ہیں، جن کے ساتھ سالانہ تقریباً 200 ارب امریکی ڈالر کی تجارت ہوتی ہے۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران اس خطے سے ہندوستانی معیشت میں نمایاں سرمایہ کاری بھی آئی ہے۔ اسی لئے سپلائی چین میں ممکنہ رکاوٹوں اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے عدم استحکام کو ایک سنگین مسئلہ سمجھا جا رہا ہے۔
مرچنٹ شپنگ پر حملوں کا ذکر
وزیر خارجہ نے کہا کہ مرچنٹ شپنگ پر حملوں کے واقعات بھی پیش آئے ہیں، جن میں ہندوستانی شہری اکثر عملے کا بڑا حصہ ہوتے ہیں۔ افسوسناک طور پر ایسے واقعات میں اب تک دو ہندوستانی ملاح ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ ایک ملاح تاحال لاپتہ ہے۔
طلبہ اور شہریوں کے انخلا میں سفارت خانے کی مدد
تنازعے کے آغاز کے بعد تہران میں واقع ہندوستانی سفارت خانے نے وہاں مقیم ہندوستانی طلبہ کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے میں مدد فراہم کی ہے۔ اس کے علاوہ تجارتی مقاصد کیلئے ایران میں موجود کچھ ہندوستانیوں کو بھی آرمینیا کے راستے وطن واپس آنے میں مدد دی گئی۔
ٹرانزٹ مراکز میں پھنسے مسافروں کی مدد
جے شنکر نے مزید بتایا کہ دبئی، دوحہ اور ابوظہبی جیسے ٹرانزٹ مراکز میں پھنسے ہوئے ہندوستانی مسافروں کی بھی مدد کی گئی ہے اور کئی ممالک کی سرحدوں سے ان کے محفوظ انخلا کے انتظامات کئے گئے ہیں۔ اب تک تقریباً 67 ہزار ہندوستانی شہری مختلف پروازوں کے ذریعے وطن واپس لوٹ چکے ہیں۔
ایرانی جہاز کو انسانی بنیاد پر پناہ
وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران کی درخواست پر اس کے ایک جہاز ’’ایرس لاوان‘‘ کو 4 مارچ کو کوچی میں لنگر انداز ہونے کی اجازت دی گئی۔ جہاز کے عملے کو ہندوستانی بحری تنصیبات میں رکھا گیا ہے اور ایران نے اس انسانی امداد کیلئے ہندوستان کا شکریہ ادا کیا ہے۔

Jadeed Bharathttps://jadeedbharat.com
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.