رانچی میں سیاسی جماعتوں کا مظاہرہ، صدر مادورو کی رہائی کا مطالبہ
جدید بھارت نیوز سروس
رانچی،22؍جنوری: عالمی فیڈریشن آف ٹریڈ یونینز (WFTU) کی کال پر امریکی سامراج کی جانب سے وینزویلا کی خودمختاری پر حملوں، اغوا، پابندیوں اور جنگی پالیسیوں کے خلاف رانچی میں ایک بڑا احتجاجی مارچ نکالاگیا۔ ‘ورلڈ اینٹی امپیریلزم ڈے‘ کے تحت منعقدہ اس مارچ کی قیادت جھارکھند مکتی مورچہ (JMM) کے ضلع کنوینر مشتاق عالم، سی پی آئی کے اجے سنگھ اور دیگر بائیں بازو کی جماعتوں کے رہنماؤں نے مشترکہ طور پر کی۔ رانچی کے سینک بازار سے شروع ہونے والایہ مارچ مین روڈ سے ہوتا ہوا لوک بھون پہنچا، جہاں یہ ایک عوامی جلسے میں تبدیل ہو گیا۔ پورے راستے میں مظاہرین ‘امریکی سامراج مردہ باد‘ اور ‘صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو رہا کرو‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔
جلسے سے خطاب کرتے ہوئے جے ایم ایم کے مرکزی جنرل سکریٹری سپریو بھٹاچاریہ نے کہا کہ یہ لڑائی سامراجی طاقتوں کے خلاف ہے۔ انہوں نے وینزویلا کے صدر اور ان کی اہلیہ کے رات کے اندھیرے میں اغوا کو بزدلانہ عمل قرار دیا اور اس کی سخت مذمت کی۔ راجیہ سبھا کی رکن پارلیمنٹ مہوا ماجی نے سامراجی پالیسیوں کے خلاف پارلیمنٹ میں آواز اٹھانے کا عہد کیا۔ مقررین نے ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکی انتظامیہ کی جانب سے وینزویلا کے تیل کے وسائل لوٹنے کی کوششوں اور اقتصادی ناکہ بندی کو انسانی حقوق اور عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔اس موقع پر صدر جمہوریہ ہند کے نام ایک میمورنڈم گورنر کو سونپا گیا، جس میں مندرجہ ذیل مطالبات کیے گئے:جن میں حکومت ہند وینزویلا کے خلاف امریکی جارحیت اور پابندیوں کی عوامی سطح پر مخالفت کرے اور صدر مادورو کی فوری رہائی کا مطالبہ کرے۔ بھارت اپنی تاریخی سامراج مخالف اور غیر وابستہ (Non-Aligned) پالیسی پر دوبارہ سختی سے عمل پیرا ہو۔ اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی فورمز پر ریاستوں کی خودمختاری کے حق میں فعال مداخلت کی جائے۔ جنگ اور وسائل کی لوٹ مار کے بجائے عالمی امن اور مکالمے کی حمایت کی جائے جیسے مطالبات شامل ہیں۔پروگرام میں جے ایم ایم، سی پی آئی، سی پی ایم، ٹی ایم سی، سماج وادی پارٹی، عام آدمی پارٹی اور کانگریس کے سینکڑون کارکنان سمیت مزدور، کسان، خواتین اور طلبہ تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اہم شرکاء میں پون جے ڈیا،اعظم احمد، ویرو ٹرکی، اشوک یادو، شبھیندو سین اور نندیتا بھٹاچاریہ شامل تھے۔
