تاریخی غلطی سدھارنے اور قبائلیوں کو آئینی حق دینے کا ہیمنت سورین کا مطالبہ
جدید بھارت نیوز سروس
رانچی، 5 اپریل:۔ جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین نے آسام کے چائے باغانوں میں رہنے والے قبائلی طبقے کو درج فہرست قبائل (ایس ٹی) کا درجہ نہ ملنے کو قومی سطح کی ناانصافی قرار دیا ہے۔ انہوں نے اتوار کو ڈیجیٹل پلیٹ فارم “ایکس” پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ یہ صرف انتظامی کوتاہی نہیں بلکہ ایک تاریخی ناانصافی ہے، جسے ملک کو تسلیم کرتے ہوئے درست کرنا ہوگا۔
نسلوں سے محنت کے باوجود شناخت نہیں
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ آسام کی سرزمین پر ایک ایسا سچ چھپا ہوا ہے جسے جتنا بھی اجاگر کیا جائے کم ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ نسلوں سے چائے باغانوں میں کام کرنے والے قبائلی سماج کو آج تک آئینی شناخت کیوں نہیں دی گئی۔
انہوں نے تاریخی حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انگریزوں کے دور میں ان قبائلیوں کو ان کے اصل علاقوں سے لا کر آسام میں بسایا گیا تھا، اور جن لوگوں نے اپنی محنت سے آسام کی معیشت کو مضبوط کیا، انہیں آج تک ان کی شناخت نہیں ملی۔
سیاسی جماعتوں پر بھی سوال
ہیمنت سورین نے اس معاملے پر سیاسی جماعتوں کے کردار پر بھی سوال اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ آزادی کے بعد کئی حکومتیں بدلیں، لیکن اس سماج کی حالت جوں کی توں رہی۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بڑے بڑے وعدے کرنے والی جماعتوں نے بھی اس مسئلے کو اپنی ترجیحات میں شامل نہیں کیا، حتیٰ کہ انتخابی منشور میں بھی اسے جگہ نہیں دی گئی۔
انصاف کے بغیر جمہوریت ادھوری
وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ یہ معاملہ سیاست سے بالاتر ہے اور اسے انصاف، عزت اور شناخت کے سوال کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ آسام کے قبائلیوں کو مزید انتظار نہیں کرایا جا سکتا اور انہیں ان کا آئینی حق ملنا چاہیے۔
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جب تک کسی سماج کو انصاف نہیں ملتا، جمہوریت بھی مکمل نہیں ہوتی۔ آخر میں انہوں نے ملک سے اپیل کی کہ اس تاریخی ناانصافی کو تسلیم کرتے ہوئے اسے دور کیا جائے تاکہ قبائلی طبقے کو ان کا حق اور وقار حاصل ہو سکے۔
