ہومJharkhandریاست کے 13,699اسکولوں میں معذور طلبہ کیلئے بیت الخلا تعمیر ہوں گے

ریاست کے 13,699اسکولوں میں معذور طلبہ کیلئے بیت الخلا تعمیر ہوں گے

Facebook Messenger Twitter WhatsApp

تقریباً 726 کروڑ روپے خرچ ہوں گے؛ ڈی ایم ایف ٹی اور سی ایس آر فنڈ سے مدد لی جائے گی

جدید بھارت نیوز سروس
رانچی، 15 فروری:۔ ریاست میں خصوصی ضرورت والے معذور بچوں کے لیے بنیادی سہولیات کو مضبوط بنانے کی سمت اسکولی تعلیم و خواندگی محکمہ نے اہم قدم اٹھایا ہے۔ محکمہ نے ایسے 13,699 اسکولوں کی نشاندہی کی ہے جہاں معذور طلبہ کے لیے علیحدہ اور موزوں بیت الخلا کی سہولت موجود نہیں ہے۔ ان اسکولوں میں مرحلہ وار تعمیر کے لیے مفصل عملی منصوبہ تیار کر لیا گیا ہے۔
تعمیر کا خاکہ اور تخمینہ لاگت
جھارکھنڈ ایجوکیشن پروجیکٹ کونسل کے تیار کردہ خاکے کے مطابق ہر اسکول میں معذور دوست بیت الخلا کی تعمیر پر تقریباً 5.30 لاکھ روپے خرچ ہونے کا اندازہ ہے۔ تعمیراتی کام تکنیکی معیار کے مطابق ہوگا تاکہ ریمپ، ہینڈل اور مناسب جگہ جیسی بنیادی سہولیات کو یقینی بنایا جا سکے۔
اضلاع کی صورتحال
سب سے زیادہ ایسے اسکول ضلع گریڈیہہ میں پائے گئے ہیں جہاں 1,453 اسکول اس منصوبہ میں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ رانچی میں 862، پلاموں میں 826، دیوگھر میں 803، دمکا میں 765، مغربی سنگھ بھوم میں 634، سرائے کیلا کھرسواں میں 633، چترا میں 608، بوکارو میں 553، گوڈا میں 550، ہزاری باغ میں 546 اور دھنباد میں 506 اسکول نشان زد کیے گئے ہیں۔
وسائل جمع کرنے کی حکمت عملی
محکمہ جاتی افسران کے مطابق جن اضلاع میں ضلع معدنی فاؤنڈیشن ٹرسٹ کی رقم دستیاب ہے وہاں اسی فنڈ سے تعمیر ممکن ہوگی اور اندازہ ہے کہ اس مد سے 6,292 اسکولوں میں کام کیا جا سکے گا۔ دیگر اضلاع میں سمگر شکشا ابھیان یا ریاستی منصوبہ سے بجٹ فراہم کیا جائے گا، جبکہ کارپوریٹ سماجی ذمہ داری اور ان ٹائیڈ فنڈ سے بھی وسائل جمع کیے جائیں گے۔
حکومت کی ترجیح اور مقصد
جے ای پی سی کے ڈائریکٹر ششی رنجن نے کہا کہ حکومت کا مقصد ہے کہ کوئی بھی بچہ بنیادی سہولیات کے فقدان میں تعلیم سے محروم نہ رہے۔ معذور طلبہ کے لیے موزوں بیت الخلا کی تعمیر ترجیحی بنیاد پر کی جائے گی۔ محکمہ کے مطابق اس اقدام سے معذور بچوں کی حاضری بڑھے گی اور انہیں باعزت و محفوظ تعلیمی ماحول میسر ہوگا۔

Jadeed Bharathttps://jadeedbharat.com
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.
Exit mobile version