ہومJharkhandحکومت ہر شہید کے وارثین کو تلاش کر کے سرکاری اعزاز سے...

حکومت ہر شہید کے وارثین کو تلاش کر کے سرکاری اعزاز سے نوازے گی

Facebook Messenger Twitter WhatsApp

سال نو پر وزیر اعلیٰ ہیمنت نے شہید پارک میں کھرساواں فائرنگ واقعہ کے شہیدوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا

جدید بھارت نیوز سروس
سرائے کیلا؍کھرساواں، یکم جنوری:۔ وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین نے کہا کہ حکومت سدھو-کانہو، بھگوان برسا منڈا اور گوا کے شہیدوں کے وارثین کو اعزاز دے رہی ہے۔ اب کھرساواں گولی کانڈ کے شہیدوں کے وارثین کو تلاش کر کے انہیں سرکاری اعزاز دینے کا کام کیا جائے گا۔ اس سے متعلق مسودہ تیار ہو چکا ہے اور عدالتی عمل کے تحت آگے بڑھا جائے گا۔ اس عمل میں ریٹائرڈ جج کے ساتھ دیگر عہدیدار بھی شامل ہوں گے جو روزمرہ کی سرگرمیوں کا جائزہ لیں گے۔ اگلے سال یومِ شہادت تک تمام شہیدوں کے وارثین کو تلاش کر لیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ جمعرات کو کھرساواں گولی کانڈ کی 78ویں برسی کے موقع پر خطاب کر رہے تھے۔
پی ای ایس اے (PESA) قانون عوام کے نام وقف
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پی ای ایس اے (PESA) قانون کو عام لوگوں کے لیے وقف کر دیا گیا ہے تاکہ گاؤں کی خود مختار حکومت (Self-Governance) مضبوط ہو اور گرام سبھا کو مزید اختیارات حاصل ہوں۔ آج لوگ مختلف کاروباری سرگرمیوں کے لیے ادھر ادھر بھٹکتے ہیں۔ ہمارے درمیان کچھ دلال قسم کے لوگ تاجروں کی مدد کے نام پر عوام کے حقوق سلب کر لیتے ہیں۔ ایسے دلالوں سے بچاؤ کے لیے پی ای ایس اے قانون نہایت اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس قانون کو گاؤں گاؤں اور پنچایتوں میں بیٹھ کر اچھی طرح سمجھنے کی ضرورت ہے۔
ریاست سی این ٹی-ایس پی ٹی قوانین کے تحت محفوظ
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ آج بڑے شہروں میں تیزی سے شہری کاری ہو رہی ہے، لیکن جھارکھنڈ سی این ٹی-ایس پی ٹی قوانین کے باعث محفوظ ہے۔ اس کے باوجود شہروں میں باہر سے آنے والے لوگ بڑے پیمانے پر اپنا غلبہ قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ آج کئی مانکی منڈا کے پاس ہزاروں ایکڑ زمین موجود ہے، جو دلالوں کے ذریعے رفتہ رفتہ غیر قبائلیوں کو منتقل ہو رہی ہے۔ شہروں میں لوگوں نے کھیتی باڑی چھوڑ دی ہے، حالانکہ آج ٹیکنالوجی بدل چکی ہے۔ اگر ہزار ایکڑ زمین پر دھان کی کاشت ممکن نہ ہو تو وہاں شمسی توانائی (سولر پاور) کی کھیتی کی جا سکتی ہے۔ کھیتوں میں سولر پینل لگا کر پیدا ہونے والی بجلی حکومت خریدے گی، جس سے زمین بھی محفوظ رہے گی اور آمدنی میں بھی اضافہ ہو گا۔
معلومات کی کمی سب سے بڑی کمزوری
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سی این ٹی-ایس پی ٹی قوانین کے ساتھ ساتھ اب پی ای ایس اے قانون بھی موجود ہے، لیکن معلومات کی کمی سب سے بڑی کمزوری ہے۔ اپنے وجود کے تحفظ کے لیے تعلیم یافتہ ہونا ضروری ہے۔ ریاست نے کئی یونیورسٹیاں قائم کی ہیں اور پولی ٹیکنک و انجینئرنگ کالج بھی کھولے جا رہے ہیں۔ آج قبائلی بچے بیرونِ ملک تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور اس کا پورا خرچ ریاستی حکومت برداشت کر رہی ہے۔ گرو جی کریڈٹ کارڈ کے ذریعے بینکوں کے تعاون سے 15 لاکھ روپے تک کی مالی مدد فراہم کی جا رہی ہے۔ اس حکومت کو ابھی ایک سال بھی مکمل نہیں ہوا اور 9 سے 10 ہزار نوجوانوں کو نوکریاں دی جا چکی ہیں۔
یہ حکومت رانچی سے نہیں، گاؤں سے چلتی ہے
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ حکومت رانچی سے نہیں بلکہ گاؤں سے چلنے والی حکومت ہے۔ خواتین کو خود کفیل بنانے کے لیے ‘میاں سمان یوجنا’ شروع کی گئی ہے۔ بجلی کے بلوں کا بوجھ حکومت نے خود اٹھایا ہے اور راشن بھی فراہم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کو تعلیم دلوائیں۔ یہ ‘ابوآ سرکار’ (ہماری حکومت) ہے، جس کا مقصد ریاست کو اس قابل بنانا ہے کہ تمام مسائل کا حل نکالا جا سکے۔ ہمیں روشنی نظر آ رہی ہے اور یہ روشنی تیزی سے پھیلے گی۔ اگر گاؤں مضبوط ہو گا تو ریاست بھی مضبوط ہو گی۔ گاؤں کو مضبوط بنانا ہماری اولین ترجیح ہے۔ ہم دیشوم گرو شیو سورین سمیت تمام بہادر شہیدوں کے نقشِ قدم پر آگے بڑھ رہے ہیں۔

Jadeed Bharathttps://jadeedbharat.com
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.
Exit mobile version