رانچی ڈی سی نےنجی اسکولوں کو فیس کمیٹی اور شفافیت کیلئے سخت ہدایات جاری کر دیں
جدید بھارت نیوز سروس
رانچی، 13 اپریل:۔ رانچی یونیورسٹی کے آریہ بھٹ آڈیٹوریم میں نجی اسکولوں کے نمائندوں کے ساتھ منعقدہ ایک اہم ضلع سطحی اجلاس میں ضلع انتظامیہ نے تعلیمی اداروں کے انتظامی اور مالی معاملات کو لے کر سخت ہدایات جاری کی ہیں۔ اجلاس کی صدارت ڈپٹی کمشنر منجوناتھ بھجنتری نے کی، جس میں والدین اور طلبہ کی شکایات پر اسکول انتظامیہ سے جواب طلب کیا گیا۔ اجلاس میں واضح کیا گیا کہ تمام اسکولوں میں پی ٹی اے (والدین و اساتذہ انجمن) کا قیام لازمی ہوگا اور اس کی اطلاع تین دن کے اندر دینا ضروری ہوگا۔ اسی طرح ہر اسکول میں فیس سے متعلق کمیٹی بھی تشکیل دینا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
فیس اور داخلہ کے قواعد
ڈپٹی کمشنر نے ہدایت دی کہ کسی بھی صورت میں فیس میں 10 فیصد سے زیادہ اضافہ نہیں کیا جا سکتا اور یہ اضافہ کم از کم دو سال کے وقفے کے بعد ہی ہوگا۔ تمام اسکولوں کو 20 اپریل 2026 تک گزشتہ تین سال اور موجودہ سال کی فیس کی مکمل تفصیل جمع کرانی ہوگی، جس پر 21 اپریل کو فیصلہ کیا جائے گا۔ ری ایڈمیشن کو مکمل طور پر غیر قانونی قرار دیتے ہوئے واضح کیا گیا کہ کسی بھی نام سے اس کی وصولی نہیں کی جا سکتی۔
طلبہ کے حقوق اور تعلیمی شفافیت
اجلاس میں کہا گیا کہ کسی بھی طالب علم کو امتحان سے روکنا، اضافی فیس کے نام پر دباؤ ڈالنا یا وقت پر ٹی سی نہ دینا چائلڈ رائٹس ایکٹ کے تحت جرم ہے۔ کتابوں کے حوالے سے ہدایت دی گئی کہ تمام اسکول کتابوں کی مکمل فہرست قیمت اور پبلشر کے ساتھ ضلع تعلیم دفتر میں جمع کریں۔ این سی ای آر ٹی کے علاوہ دیگر کتابوں کے لیے والدین پر دباؤ نہیں ڈالا جائے گا اور نہ ہی مخصوص دکان سے خریداری لازمی ہوگی۔
یونیفارم اور ٹرانسپورٹ پر ضوابط
یونیفارم میں تبدیلی پی ٹی اے کی منظوری کے بغیر نہیں ہوگی اور کم از کم پانچ سال تک ایک ہی یونیفارم نافذ رہے گی۔ اسکول کیمپس میں یونیفارم کی فروخت پر مکمل پابندی ہوگی۔ اسکول بسوں میں سی سی ٹی وی، جی پی ایس اور فائر ایکسٹنگوشر لازمی قرار دیا گیا ہے جبکہ بس فیس بھی 10 فیصد حد کے اندر شامل ہوگی۔
شکایات اور کارروائی
انتظامیہ کو اب تک 140 سے زائد شکایات موصول ہو چکی ہیں جن پر شوکاز نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔ شکایات درج کرانے کیلئے ڈسٹرکٹ لیول فیس کمیٹی دفتر اور مخصوص واٹس ایپ نمبر کے ذریعے سہولت فراہم کی گئی ہے۔تمام شکایات کا ازالہ 60 دن کے اندر کیا جائے گا اور فیصلے کو اسکول کی ویب سائٹ پر شائع کرنا لازمی ہوگا۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ مقصد اسکولوں کے کام میں رکاوٹ ڈالنا نہیں بلکہ شفاف نظام قائم کرنا اور والدین و طلبہ کے مسائل کا حل یقینی بنانا ہے۔
