ریمس ٹراما سینٹرسے جڑے پانچ اضلاع کے صدر ہسپتال؛ حادثاتی اور سنگین مریضوں کو فوری طبی امداد
جدید بھارت نیوز سروس
رانچی،یکم؍اپریل: ایمرجنسی اور ٹراما کی صورتحال میں ’گولڈن پیریڈ‘ انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ ایسے میں، جھارکھنڈ میں ٹیلی آئی سی یو (Tele-ICU) اسکیم بے حد کارگر ثابت ہو رہی ہے۔ اس کے تحت مختلف اضلاع کے سنگین اور ٹراما کے مریضوں کو ان کے ضلعی ہسپتالوں کے آئی سی یو میں فوری اور بہتر علاج میسر آ رہا ہے۔ ابتدائی طور پر، جھارکھنڈ کے پانچ اضلاع— رانیچی، کھونٹی، لاتیہار، گملااور چترا کے صدر ہسپتالوں کے آئی سی یو کو ریمس (RIMS) ٹراما سینٹرسے جوڑا گیا ہے۔ریمس ٹراما سینٹرکے ٹیلی آئی سی یو یونٹ میں بیٹھنے والی ڈاکٹر سندھیا رانی براہ راست رانچی صدر ہسپتال کے آئی سی یو سے جڑی ہوئی ہیں۔ وہاں سے ڈاکٹر منج ہر مریض کی تصاویر اور ان کی کیس ہسٹری بتاتی ہیں۔ ڈاکٹر سندھیا رانی، ٹراما ہیڈ ڈاکٹر پردیپ بھٹاچاریہ، اور ٹیلی آئی سی یو نوڈل ڈاکٹر سدیپتو بنرجی، مریض کو دی جانے والی ادویات اور اس کے اثرات کے بارے میں مشورے دیتے ہیں۔ لاتیہار، کھونٹی، گملااور چترا کے صدر ہسپتالوں کے 10 بستروں والے آئی سی یو میں بھی اسی طرح کے ‘ٹیلی راؤنڈز‘ کیے جاتے ہیں۔جھارکھنڈ میں تقریباً ایک ماہ سے جاری اس ٹیلی آئی سی یو پہل میں ابھی صرف پانچ ضلعی ہسپتال ہی ریمس ہب سینٹرسے منسلک ہیں، جن میں چترا تکنیکی وجوہات کی بنا پر مکمل طور پر نہیں جڑ پا رہا ہے۔ اس کے باوجود، صرف چھ ماہ کے دوران ریمس ٹراما سینٹرکے ڈاکٹروں کے مشورے پر 800 سے زائد آئی سی یو مریضوں کا علاج کیا جا چکا ہے۔ ٹیلی آئی سی یو اسکیم کے اسٹیٹ نوڈل آفیسر ڈاکٹر سدیپتو بنرجی کا کہنا ہے کہ یہ یقینی طور پر نہیں کہا جا سکتا کہ اس نظام نے کتنی جانیں بچائی ہیں، لیکن یہ طے ہے کہ 800 سے زائد مریضوں کو رانچی لانا پڑتا، جن کا علاج وہیں ہو گیا۔ ریمس ٹراما سینٹرکے سربراہ ڈاکٹر پردیپ بھٹاچاریہ نے حکومتِ جھارکھنڈ کے ذریعے شروع کیے گئے اس نظام کو انتہائی مفید قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی کوشش ہے کہ جھارکھنڈ کے ہر ضلع کے صدر ہسپتال میں 10 بستروں کا آئی سی یو ہو، جو ٹیلی آئی سی یو کے ذریعے ریمز ٹراما سینٹرکے ٹیلی آئی سی یو ہب سے منسلک ہو۔ اس سے حادثات اور دیگر سنگین مریضوں کو ان کے اپنے ہی اضلاع میں معیاری علاج فراہم کر کے جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔ڈاکٹر پردیپ بھٹاچاریہ کا کہنا ہے کہ جیسے ہی ٹیلی آئی سی یو راؤنڈ سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ کسی مریض کا علاج ضلعی ہسپتال کے آئی سی یو میں ممکن نہیں ہے، تو انہیں فوری طور پر ریمس بلا لیا جاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آنے والے دنوں میں ریمس میں 60 بستروں کا ٹراما سینٹرہوگا، ساتھ ہی 10 ریزرو بستروں والاآئی سی یو بھی ہوگا، جہاں اضلاع کے ٹیلی آئی سی یو مریضوں کا علاج ہو سکے گا۔
