جدید بھارت نیوز سروس
جمشیدپور،4؍اپریل: سیتارام ڈیرہ تھانہ علاقے کے چھایا نگر میں 31 مارچ کی رات تقریباً 30:9بجے ہوئے چاقو زنی اور فائرنگ کے معاملے کا پولیس نے 72 گھنٹے کے اندر انکشاف کر دیا ہے۔ اس واقعے میں ملوث چار ملزمان کو گرفتار کر کے عدالتی تحویل میں جیل بھیج دیا گیا ہے۔ گرفتار ملزمان میں چھایا نگر کے رہائشی کرن ورما (21)، نربھے سنگھ عرف چھوٹکا (19)، سنتوش ورما عرف منا اور کنال منڈا عرف چھلا (23) شامل ہیں۔ پولیس نے ان کے قبضے سے واردات میں استعمال ہونے والاایک دیسی کٹہ، تین چاپڑ (بڑے چاقو) اور دو موبائل فون برآمد کیے ہیں۔ پولیس کی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ گرفتار چار میں سے تین ملزمان کا مجرمانہ ریکارڈ رہا ہے۔ کرن ورما پہلے شراب کے مقدمے میں، نربھے سنگھ اغوا کے کیس میں، جبکہ کنال منڈا این ڈی پی ایس اور اقدامِ قتل کے معاملات میں جیل جا چکے ہیں۔ اس سلسلے میں سٹی ایس پی کمار شیواشیش نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ واقعے کی رات ملزمان نے جگن ناتھ پشتی عرف سنی پشتی اور نندو لوہار عرف نندو کرمکار پر چاپڑ سے جان لیوا حملہ کیا تھا اور علاقے میں خوف و ہراس پھیلانے کے لیے فائرنگ بھی کی تھی۔واقعے کے بعد ایس ایس پی کی ہدایت پر سٹی ایس پی کے ذریعے ڈی ایس پی بھولاپرساد کی قیادت میں ایک خصوصی تفتیشی ٹیم تشکیل دی گئی۔ ٹیم نے فوری کارروائی کرتے ہوئے چاروں ملزمان کو سیتارام ڈیرہ بس اسٹینڈ سے گرفتار کیا، جہاں سے وہ بس کے ذریعے پٹنہ فرار ہونے کی فراق میں تھے۔ پولیس کے مطابق تمام ملزمان اور زخمی ایک ہی علاقے چھایا نگر کے رہنے والے ہیں۔ ان کے درمیان سال 2022 سے تنازع چل رہا تھا۔ سال 2023 میں برننگ گھاٹ میں بھی ان کے درمیان جھڑپ ہو چکی تھی، جبکہ حالیہ رام نومی کے دوران بھی کشیدگی کی صورتحال بنی تھی۔ ابتدائی تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ملزمان کو خدشہ تھا کہ نندو لوہار اور سنی پشتی ان پر حملہ کر سکتے ہیں۔ اسی خوف اور باہمی دشمنی کی وجہ سے انہوں نے اس واقعے کو انجام دیا۔ فی الحال پولیس نے تمام ملزمان کو عدالتی تحویل میں بھیج دیا ہے اور معاملے کی مزید کارروائی جاری ہے۔
