امن و امان تباہ: ایچ ای سی سے بچوں کا غائب ہونا شرمناک
جدید بھارت نیوز سروس
رانچی،13؍جنوری: آجسو (AJSU) پارٹی کے سربراہ اور سابق نائب وزیر اعلیٰ سدیش مہتو نے آج دھروا سے لاپتہ بچوں انش اور انشیکا کے والدین سے ملاقات کی اور بچوں کی بحفاظت واپسی کے لیے ہر ممکن مدد کا یقین دلایا۔ اس کے بعد مہتو کھونٹی پہنچے اور بہیمانہ قتل کا شکار ہونے والے آنجہانی پڑہا راجا سوما منڈا کے اہل خانہ سے ملاقات کر کے تعزیت کا اظہار کیا۔ ان کے ساتھ مرکزی نائب صدر پروین پربھاکر اور مرکزی جنرل سکریٹری و ضلع پریشد صدر نرملا بھگت بھی موجود تھیں۔ سدیش مہتو نے کہا کہ ریاستی حکومت کی ترجیحات میں غریب شامل نہیں ہیں۔ نہ تو انش-انشیکا کا کوئی سراغ مل سکا ہے اور نہ ہی سوما منڈا کے قاتلوں کا۔ جھارکھنڈ میں ریاستی حکومت اور پولیس مکمل طور پر بے حس ہو چکی ہے۔ امن و امان کی صورتحال تباہ ہو چکی ہے اور ریاست میں مجرموں کا راج چل رہا ہے۔ ریاستی حکومت کی ناک کے نیچے ایچ ای سی (HEC) کمپلیکس سے بچے سرِ عام غائب ہو جاتے ہیں اور ان کا پتہ نہیں چلتا۔ کھونٹی میں پڑہا راجہ سوما منڈا کو قتل کر دیا جاتا ہے اور پولیس محض ہاتھ پاؤں مار رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ بچوں کی گمشدگی کی اطلاع شام 6 بجے تھانے کو دے دی گئی تھی لیکن پولیس دو دنوں تک سنجیدہ نہیں ہوئی۔ اگر اطلاع ملتے ہی پولیس سرگرم ہو جاتی تو شاید بچے مل جاتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ابھی تک ریاستی حکومت کی جانب سے کسی نے متاثرہ خاندان کی خیر خبر نہیں لی ہے۔کھونٹی میں سوما منڈا کے لواحقین سے ملاقات کے بعد انہوں نے کہا کہ ایک سماجی شخصیت کا قتل کر کے پورے معاشرے پر وار کیا گیا ہے۔ آنجہانی منڈا سماج کے پیشوا تھے۔ ان کا قتل کر کے قبائلیوں کی آواز کو دبانے کی سازش کی گئی ہے۔اس موقع پر جے کانت کشیپ، مہاویر نائک، مکیش نائک، ہریش کمار، ستیش کمار، چنٹو مشرا، راجو نائک، چیتن پرکاش، اوم ورما، ریتوراج شاہدیو، پرتاپ سنگھ، نرمل اراؤں، پریتم کمار، روشن کمار نائک، سندیپ ساہو اور دیگر بھی موجود تھے۔
